ہوم » نیوز » عالمی منظر

دہشت گرد حافظ سعید کے گھر کے باہر پاکستانی فوج نے کرایا دھماکہ؟ جانیں کیا ہے حقیقت

پاکستانی فوج (Pakistan Army) نے جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) میں بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی دراندازی اور بیٹ ایکشن کے لئے ایک آپریشن شروع کیا تھا۔ اب اس آپریشن کے تار لاہور (Lahore) میں حافظ سعید (Hafiz Saeed) کے گھر کے باہر ہوئے دھماکوں سے جوڑے جارہے ہیں۔

  • Share this:
دہشت گرد حافظ سعید کے گھر کے باہر پاکستانی فوج نے کرایا دھماکہ؟ جانیں کیا ہے حقیقت
دہشت گرد حافظ سعید کے گھر کے باہر پاکستانی فوج نے کرایا دھماکہ؟ جانیں کیا ہے حقیقت

اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) واقع لاہور (Lahore) کے جوہر ٹاون (Jauhar Town Explosion) واقع اکبر چوک میں دہشت گرد حافظ سعید (Hafiz Saeed) کے گھر کے باہر حال ہی میں دھماکہ ہوا تھا۔ اب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی آرمی (Pakistan Army) کے اس دھماکے سے تار جڑے ہوئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تشکیر جبل نام سے ایک آپریشن مئی کے آخری ہفتے میں شروع کیا گیا تھا۔ آپریشن کو ماونٹین وارفیئر کی پریکٹس کے لئے میگا ملٹری ایکسرسائز کی آڑ میں لانچ کیا گیا تھا۔


پاکستان کے ناپاک منصوبوں کی بھنک لگتے ہی انڈین آرمی (Indian Army) نے کاونٹر کے لئے پونچھ میں ماونٹین وارفیئر میں باصلاحیت جوانوں کو تعینات کردیا۔ 26 مئی سے 10 جون کے درمیان پونچھ سیکٹر میں سرحد پار راولا کوٹ، ٹولی پیر علاقے میں پاک آرمی نے مبینہ میگا ملٹری ایکسرسائز کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان آرمی کا آپریشن تشکیر جبل ابھی بھی جاری ہے۔ یہ آپریشن اب ایل او سی اور انٹرنیشنل بارڈر کے آس پاس کے پاکستانی علاقوں سے چل رہا ہے۔ پاکستانی فوج دہشت گردوں کو جموں وکشمیر میں دراندازی کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔


جموں وکشمیر میں پاکستان کا ہر منصوبہ ناکام


دراصل ایل او سی پر ہندوستانی فوج اور بین الاقوامی سرحد پر بی ایس ایف کی مستعدی کی وجہ سے سرحد پار سے جموں وکشمیر میں دراندازی کی کئی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ساتھ ہی وادی میں حالات مسلسل بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں پاک آرمی اور آئی ایس آئی بوکھلا گئی ہے۔ وہ کسی بھی قیمت پر وادی میں حالات کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔ خفیہ ذرائع کے مطابق، پاکستان کے آپریشن تشکیر جبل کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے، جس کو لشکر طیبہ کے سربراہ اور عالمی دہشت گرد حافظ سعید کے اوپر بدھ کو لاہور حملے سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 25, 2021 08:29 AM IST