உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان کو ’بیک فٹ‘ پر لانے کےلئے’سازش‘ کر رہی ہے پاکستانی فوج، جانیں کیا ہے ماجرا

    عمران خان کو ’بیک فٹ‘ پر لانے کےلئے’سازش‘ کر رہی ہے پاکستانی فوج

    عمران خان کو ’بیک فٹ‘ پر لانے کےلئے’سازش‘ کر رہی ہے پاکستانی فوج

    پاکستان میں اس وقت عمران خان حکومت (Imran Khan Government) کے سامنے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ حکومت کے خلاف ممنوعہ شدت پسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان (Tehreek-e-Labbaik Pakistan-TLP) بڑا احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہے۔ گزشتہ بدھ کو ٹی ایل پی حامیوں نے ریلی کے دوران گولیاں چلا دی تھی، جس میں تین پولیس اہلکاروں کی موت ہوگئی تھی اور دیگر 260 زخمی ہوگئے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان میں شدت پسند پارٹی تحریک لبیک پاکستان (Tehreek-e-Labbaik Pakistan-TLP) اس وقت عمران خان حکومت (Imran Khan Government) کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ ان احتجاج کے درمیان سی این این-نیوز 18 کے ذرائع کے حوالے سے جانکاری ملی ہے کہ ٹی ایل پی اور عمران حکومت کے درمیان تنازعہ بڑھانے کے لئے پاکستانی فوج آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ٹی ایل پی پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

      پاکستان میں اس وقت عمران خان حکومت (Imran Khan Government) کے سامنے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ حکومت کے خلاف ممنوعہ شدت پسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان (Tehreek-e-Labbaik Pakistan-TLP) بڑا احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہے۔ گزشتہ بدھ کو ٹی ایل پی حامیوں نے ریلی کے دوران گولیاں چلا دی تھی، جس میں تین پولیس اہلکاروں کی موت ہوگئی تھی اور دیگر 260 زخمی ہوگئے۔ احتجاج ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج چاہتی ہے کہ احتجاجی مظاہرے چلتے رہیں، جس سے عمران حکومت ’بیک فٹ‘ پر آجائے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی بطور آئی ایس آئی سربراہ تقرری میں تاخیر سے پاکستانی فوج کے سربرا جنرل قمر باجوا ناراض ہیں۔

      کیوں احتجاج کر رہی ہے ٹی ایل پی

      ٹی ایل پی اپنے لیڈر سعد رضوی کی گرفتاری سے متعلق احتجاج کر رہی ہے۔ سعد رضوی کو گزشتہ اپریل میں تب گرفتار کیا گیا تھا، جب انتظامیہ نے ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ٹی ایل پی کے احتجاج کے ایک دیگر مطالبہ پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو معطل کرنا بھی ہے۔ دراصل ٹی ایل پی کی قیادت میں ہی اس سال کے آغاز میں فرانس مخالف مہم چلائی گئی تھی، جس کے بعد فرانسیسی سفیر نے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی وارننگ دی تھی۔

      حکومت اور ٹی ایل پی بات چیت ناکام

      اس درمیان عمران خان حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان سبھی طرح کی بات چیت ناکام رہی ہے۔ نتیجتاً راجدھانی اسلام آباد کو کنٹینرس کے ذریعہ ’بلاک‘ کردیا ہے۔ دراصل عمران خان حکومت نے ٹی ایل پی پر صرف پابندی ہی نہیں عائد کی تھی بلکہ اسے دہشت گرد تنظیم بھی ڈکلیئر کردیا تھا۔ پاکستان حکومت نے اس کا نوٹیفکیشن اپنے ملک میں نہیں جاری کیا تھا۔ اسے صرف فائنینشیل ٹاسک فورس کو بھیجا گیا تھا اور جانکاری دی گئی تھی کہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ اب ٹی ایل پی چاہتی ہے کہ اس کا نام لسٹ سے ہٹایا جائے اور اسے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اعلان کیا جائے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: