உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: پاکستانی فوج میں کشیدگی؟ کیا باجوا پر سے بھروسہ ٹوٹ رہا ہے؟ اقتدار کے گلیاروں میں بڑا سوال

    Pakistan Army Qamar Javed Bajwa: جنرل قمر جاوید باجوا نے 8 جون کو راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر میں 80ویں ’فارمیشن کمانڈرس کانفرنس‘ کی صدارت کرتے ہوئے ابھرتے جیو اسٹریٹجک ماحول کے مد نظر مہم چلانے سے متعلق تیاریوں کے اعلیٰ معیار کو بنائے رکھنے پر خاص زور دیا۔

    Pakistan Army Qamar Javed Bajwa: جنرل قمر جاوید باجوا نے 8 جون کو راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر میں 80ویں ’فارمیشن کمانڈرس کانفرنس‘ کی صدارت کرتے ہوئے ابھرتے جیو اسٹریٹجک ماحول کے مد نظر مہم چلانے سے متعلق تیاریوں کے اعلیٰ معیار کو بنائے رکھنے پر خاص زور دیا۔

    Pakistan Army Qamar Javed Bajwa: جنرل قمر جاوید باجوا نے 8 جون کو راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر میں 80ویں ’فارمیشن کمانڈرس کانفرنس‘ کی صدارت کرتے ہوئے ابھرتے جیو اسٹریٹجک ماحول کے مد نظر مہم چلانے سے متعلق تیاریوں کے اعلیٰ معیار کو بنائے رکھنے پر خاص زور دیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کیا پاکستانی فوج میں کوئی داخلی انتشار یا گروپ بازی چل رہی ہے؟ اور کیا یہی وجہ ہے کہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کے برتاو میں ڈرامائی تبدیلی آئی؟ اندرونی ذرائع نے سی این این-نیوز18 کو خصوصی طور پر بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوا کے ذریعہ سات ہفتے کے اندر دو فارمیشن کمانڈرس کانفرنس (ایف سی سی) کا انعقاد ملک کے سپریم اتھارٹی میں کشیدگی کا اشارہ دیتا ہے کیونکہ پاکستانی فوج کی تاریخ میں ایسا ہونا کافی انوکھا ہے۔ 80واں فارمیشن کمانڈرس کانفرنس راولپنڈی واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر میں 8 جون کو منعقد کیا گیا تھا، جبکہ اس سے پہلے ایف سی سی کانفرنس 12 اپریل کو تقریباً سات ہفتے پہلے منعقد ہوا تھا۔

      ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا، ’آزادی کے بعد کے 75 سالوں میں پاکستانی فوج نے 1947 سے مارچ 2022 تک صرف 78 ایف سی سی کو بلایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک سال میں ایک ایف سی سی۔ ایف سی سی میں سالانہ رفتار اور دیگر آپریٹنگ ایجنڈوں پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ جنگ کے وقت میں دو خصوصی ایف سی سی بلائی گئی تھی۔ جب سے اقتدار میں تبدیلی آئی، جنرل باجوا نے بغیر کسی خصوصی ایجنڈا کے دو ایف سی سی بلائی ہے، جیسا کہ ہم نے گزشتہ والے میں دیکھا تھا، جو کہ سوچ سے پرے یا بالکل ہی انوکھا ہے‘۔

      6 جون کو ایسا ہی ایک اور حیران کرنے والا معاملہ سامنے آیا، جہاں کچھ سابق فوجی افسران نے باجوا سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور ان پر اقتدار تبدیلی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو عہدے سے ہٹانے میں شامل ہونے کا بھی الزام لگایا۔ اسی وجہ سے ایف سی سی کے ایسے وقت میں ہونے کو ذرائع کافی اہم مان رہے ہیں۔ اس درمیان، یہ بھی بےحد اہم ہے کہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے 15 مارچ سے ایک بھی کور کمانڈروں کا اجلاس (سی سی سی) نہیں کیا ہے، جو کہ ایک ماہانہ پروگرام ہے۔

      News18 کے پاس ایسے سوالوں کی فہرست ہے، جس پر ایف سی سی کے بعد پاکستانی اقتدار کے گلیاروں میں بحث ہو رہی ہے۔

      جنرل قمر باجوا کور کمانڈرس کانفرنس کیوں نہیں بلا رہے ہیں؟ انہیں کس سے ڈر لگ رہا ہے؟

      فوج کا سالانہ پرموشن بورڈ ابھی بھی کیوں نہیں منعقد کیا گیا ہے؟ اپریل کے پہلے ہفتے سے اسے کیوں روک کر رکھا گیا ہے؟

      سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض کا مستقبل کیا ہے؟

      سیاست دانوں کو اب بھی اقتدار سے ملے جلے اشارے کیوں آرہے ہیں؟

      پرانے سربراہ سے متعلق فیصلے ابھی تک کیوں نہیں لے گئے ہیں؟

      کیا ایف سی سی کا انعقاد ادارے کے اندر باجوا کے لئے یقین حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر ان لوگوں کو واضح پیغام دینے کے لئے کیا گیا، جو سرگرم طور پر ان کے خلاف تشہیر کر رہے ہیں؟

      کیا کور کمانڈروں میں ناراضگی ہے اور وہ سی سی سی سے بچنے کے پیچھے فوجی سربراہ سے استعفیٰ دینے کے لئے کہہ سکتے ہیں؟ کور کمانڈروں کے پاس باجوا کے استعفیٰ کے لئے انہیں مجبور کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ حالانکہ یہ ایک الگ کہانی ہو سکتی ہے، اگر وہ سخت راستہ منتخب کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سوال ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے بھی پوچھا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: