اپنا ضلع منتخب کریں۔

    عمران خان کے الزاموں سے بوکھلائی پاکستانی فوج حکومت سے قانونی کارروائی کرنے کو کہا

    Youtube Video

    ۔ پاکستانی فوج نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے خلاف فوج کے ایک سینئر اہلکار کو بدنام کرنے پر قانونی کارروائی کرے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaPakistanPakistan
    • Share this:
      اسلام آباد۔ خود پر جان لیوا حملے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فوج اور حکومت پر لگائے گئے الزامات سے پاکستانی فوج بوکھلا گئی ہے۔ پاکستانی فوج نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے خلاف فوج کے ایک سینئر اہلکار کو بدنام کرنے پر قانونی کارروائی کرے۔ اپنے قتک کی کوشش کی سازش میں پاکستانی فوج کے ایک سینیئر اہلکار کے شامل ہونے کے عمران خان کے الزامات کا جواب دیتےے ہوہے خفیہ انٹیلی جینس سروسز پبلک رلیشنس (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کے ذریعے ادارے اور بالخصوص طور سے ایک سینیئر فوجہ اہلکار کے خلاف لگائے گئے الزام بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔
      عمران خان کو جمعرات کو صوبہ پنجاب کے وزیر آباد لانگ مارچ کے دوران چار گولیاں لگیں۔ ان کے پاؤں پر چوٹیں آئی ہیں اور انہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ عمران خان کا ماننا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، ملک کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیصل کے کہنے پر ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ عمران خان کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج کو انتہائی پیشہ ور اور نظم و ضبط کا حامل ادارہ ہونے پر فخر ہے۔ جس میں اندرونی احتساب کا ایک مضبوط اور انتہائی موثر نظام موجود ہے۔ جو کہ غیر قانونی کاموں کی روک تھام کے لیے پوری فوج میں لاگو ہے۔




      ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان میں حکومت پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرے اور فوج اور اس کے افسران کو بدنام کرنے اور جھوٹے الزامات لگانے والے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر مفاد پرستوں نے بے ہودہ الزامات لگا کر فوج کی عزت، سلامتی اور وقار کو داغدار کرنے کی کوشش کی تو فوج اپنے افسران اور جوانوں کی عزت کا ہر طرح سے تحفظ کرے گی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: