ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستانی حکومت کا تشدد کے بعد تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

Pakistan Ban Islamist Group TLP: پاکستانی وزیر داخلہ کے مطابق احتجاج کے دوران ایمبولینسز کو روکا گیا، کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے منگوائی گئی آکسیجن روکی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جی ٹی روڈ، موٹرویز بحال ہیں، اس پر تشدد احتجاج کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 340 زخمی ہوئے ۔

  • Share this:
پاکستانی حکومت کا تشدد کے بعد تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ
پاکستانی حکومت کا تشدد کے بعد تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ۔ (AFP/12 April 2021)

اسلام آباد : پاکستان میں کے مختلف شہروں میں 3 روز سے جاری پُر تشدد احتجاج کے بعد عمران حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پابندی کی قرارداد حکومت پنجاب کی جانب سے آئی تھی ، جس کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کردی گئی ہے۔


ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم نے جو معاہدہ کیا اس پر قائم تھے اور ہیں لیکن جس مسودے کا تقاضا وہ کررہے تھے وہ اس ملک کو دنیا میں انتہا پسند ملک کا نام دیتا، جس کے لیے ہم تیار نہیں تھے، ہم شائستہ اور پارلیمانی زبان میں وہ قرار داد لا رہے تھے ، جو انہوں نے یکسر مسترد کردی۔


پاکستانی وزیر داخلہ کے مطابق احتجاج کے دوران ایمبولینسز کو روکا گیا، کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے منگوائی گئی آکسیجن روکی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جی ٹی روڈ، موٹرویز بحال ہیں، اس پر تشدد احتجاج کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 340 زخمی ہوئے، اس کے علاوہ مظاہرین نے کچھ اہلکاروں کو اغوا کر کے ہم سے مطالبات کیے جو اب واپس اپنے تھانوں میں پہنچ چکے ہیں۔


بتادیں کہ تحریک لبیک پاکستان نے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر رواں سال فروری میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا ۔ حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔ اس کے بعد ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

اس سلسلہ میں اتوار کے روز سعد رضوی نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں، جس کے بعد حکومت نے سعد رضوی کو گرفتار کرلیا تھا۔  مگر سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے ، جنہوں نے بعض مقامات پر پر تشدد صورتحال اختیار کرلی۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 15, 2021 12:13 AM IST