اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’پاکستان سے منشیات کی ڈرونز کے ذریعے منتقلی، ہندوستانی ہینڈلرز کے کام کا معاوضہ منشیات!‘

    ’’ملزمان کو سرحد پار لوگوں سے رابطے حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے‘‘۔

    ’’ملزمان کو سرحد پار لوگوں سے رابطے حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے‘‘۔

    ایک سینئر سرکاری اہلکار نے نیوز 18 کو بتایا کہ پاکستان سے بھیجی جانے والی منشیات کی کھیپ ہندوستان میں اسلحہ اور گولہ بارود کی سپلائی کے لیے ہینڈلرز اور ان کے معاون افراد کی تنخواہوں کی طرح ہے۔ یہ ہینڈلرز اس جگہ اور مقام کی تصاویر حاصل کر رہے تھے، جہاں انہیں ہتھیاروں کی کھیپ گرانی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Pakistan
    • Share this:
      این آئی اے اور پنجاب پولیس کی تحقیقات اور چارج شیٹ کیسوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان سے آنے والی یہ منشیات کنسائنمنٹس ہینڈلرز کے لیے مراعات ہیں، جو انہیں بطور تنخواہ دی جاتی ہے۔ سرحد کے دوسری طرف سے ڈرون کے ذریعے ہندوستان بھیجی جانے والی منشیات کی کھیپ زیادہ ہے۔ منشیات پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں یا ڈرونز کے ذریعے سپلائی کی جاتی ہیں، یہ دراصل بھتہ یا خصوصی مراعات ہیں اور بس۔

      ذرائع کے مطابق پنجاب میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی سپلائی سے منسلک ایک معاملے میں این آئی اے کی طرف سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں تفتیش کاروں نے ایسی مثالوں کا ذکر کیا ہے جہاں پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیمیں اس طرح کی تکنیک استعمال کر رہی ہیں۔ اسی طرح کے کیس کی تحقیقات کرنے والے ایک تفتیش کار نے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ملزمان کو پہلے منشیات کی کھیپ ملتی ہے، جس سے دہشت گرد تنظیموں کو ہندوستانی ہینڈلرز کا اعتماد حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ بعد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھیجتے ہیں اور انہیں کسی مقام پر گرانے کو کہتے ہیں۔ کامیاب ترسیل کے بعد وہ پھر سے کچھ مقدار میں منشیات بطور مراعات بھیجتے ہیں۔

      یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان میں مقیم ہینڈلرز کو پاکستان میں مقیم آقاؤں کے رابطے ملتے ہیں، سینئر افسر نے کہا کہ ان سب نے جیلوں کے اندر پاکستان میں کسی ایسے شخص سے ملاقات کی تھی۔ تمام ملزمان برسوں جیل میں گزار چکے ہیں اور جیلوں سے پاکستان میں مقیم آقاؤں سے رابطے ہوئے ہیں۔ چارج شیٹ شدہ مقدمات میں جیل میں ایسے رابطوں کی تفصیلات ہوتی ہیں اور ملزمان کو سرحد پار لوگوں سے رابطے حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

      اس طرح کے معاملات کی جانچ کرنے والے سینئر افسران نے نیوز 18 کو بتایا کہ تقریباً سبھی میں منشیات کو ادائیگی کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بارڈر سیکیورٹی فورس کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایسے ڈرون تقریباً ہر روز ہی روکے جاتے ہیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ کنسائنمنٹ حاصل کرنے والے ملزمان سے پوچھ گچھ کے دوران ایجنسیوں کو معلوم ہوا کہ ان کے پاس ذاتی استعمال کے لیے چھوٹے ہتھیار بھی ہیں جنہیں کچھ پیسے کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      ایک سینئر سرکاری اہلکار نے نیوز 18 کو بتایا کہ پاکستان سے بھیجی جانے والی منشیات کی کھیپ ہندوستان میں اسلحہ اور گولہ بارود کی سپلائی کے لیے ہینڈلرز اور ان کے معاون افراد کی تنخواہوں کی طرح ہے۔ یہ ہینڈلرز اس جگہ اور مقام کی تصاویر حاصل کر رہے تھے، جہاں انہیں ہتھیاروں کی کھیپ گرانی تھی۔ یہ منشیات چھوٹی مقدار میں مراعات کے طور پر بھیجی جا رہی ہیں، جو آگے پیسے لے کر فروخت کی جاتی ہیں۔ پاکستان کی سرحد کے قریب علاقوں میں یہ طریقہ کار بہت زیادہ ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: