ہوم » نیوز » عالمی منظر

چین - پاکستان کی نئی چال، گلگت، بلتستان میں ہندوستان کے خلاف ہو رہی ہے سازش؟

Gilgit Baltistan: پاکستان لیہہ کے دوسری طرف گلکت - بلتستان میں اسکاردو تک پہنچنے کے لئے پرانی سڑکوں کو از سر نو جلد از جلد پورا کرنے میں مصروف ہیں۔

  • Share this:
چین - پاکستان کی نئی چال، گلگت، بلتستان میں ہندوستان کے خلاف ہو رہی ہے سازش؟
چین - پاکستان کی نئی چال، گلگت، بلتستان میں ہندوستان کے خلاف ہو رہی ہے سازش؟

نئی دہلی: پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی اوکے) کو واپس ہندوستان میں شامل کرنے والی مرکزی حکومت کے بیانات نے پاکستان کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے کہ پڑوسی ملک نے پورے پی اوکے میں نئی سڑکوں کی تعمیر اور پرانی سڑکوں کی مرمت میں مصروف ہوگیا ہے۔ اس کام کے لئے پاکستان، چین کی مدد لے رہا ہے۔ پاکستان لیہہ کے دوسری طرف گلکت- بلتستان میں اسکاردو تک پہنچنے کے لئے پرانی سڑکوں کو ازسرنو جلد ازجلد پورا کرنے میں مصروف ہے۔ اس سڑک کے پورا ہونے کے بعد پاکستان کی فوج کو کرگل، سیاچن، بٹالک اور چور بٹلہ کی طرف پہنچنے میں آسانی ہوجائے گی۔ جگلوٹ سے اسکاردو تک کی دوری 167 کلو میٹر کی ہے اور اس پوری سڑک کو پکا کیا جا رہا ہے۔


اس سڑک کے پورا ہونے کے بعد پاکستان کی فوج کو کرگل، سیاچن، بٹالک اور چور بٹلہ کی طرف پہنچنے میں آسانی ہو جائے گی۔ جگلوٹ سے اسکاردو تک کی دوسری 167 کلو میٹر کی ہے اور اس پوری سڑک کو پکا کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس سڑک میں موجود تیز موڑ کو بھی ٹھیک کیا جارہا ہے، اس کے لئے آس پاس کے پہاڑوں کو توڑ کر روڈ کو آسان بنایا جارہا ہے۔ پہلے یہ سڑک 3.5 میٹر چوڑی ہوا کرتی تھی، لیکن اب اسے 7.5 میٹر چوڑی کی جارہی ہے۔ پاکستان کے لئے حکمت عملی کے طور پر اہم اس سڑک کو بنانے کا کام ویسے تو پاکستان کے فرنٹیئر ورک آرگنائزیشن کو دے رکھا ہے، لیکن اس سڑک کی تعمیر کی ذمہ داری ایک چینی کمپنی کو دی گئی ہے۔ یہی کمپنی کارا کورم ہائی وے کو ڈبل لین بنانے کے کام میں مصروف ہے۔


کارا کورم ہائی وے پر جگلوٹ سے ایک پتلا راستہ اسکاردو کی طرف جاتا ہے، اسی راستے کو اب چوڑا کیا جا رہا ہے۔ اس سڑک میں چین کی دلچسپی اس لئے بھی زیادہ ہے کیونکہ اسکاردو ایئربیس کی تجدید کاری میں اس نے ہر طرح کی مدد کی ہے، یہی نہیں نیا رن وے  بھی تیار کیا گیا ہے اور ہر موسم میں دن رات ایئربیس کا استعمال ہوسکے، اس کے لئے نئی تکنیک کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 30, 2021 05:56 PM IST