உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چین نے ہندستان کے ساتھ ملایا سر، بتایا۔ پاکستان کیوں نہیں ہے BRICS کے لائق

    دراصل اس بار چین نے ورچوئل میڈیم کے ذریعے برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ 24 جون کو چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی ترقی پر اعلیٰ سطحی مکالمے کا اہتمام کیا۔

    دراصل اس بار چین نے ورچوئل میڈیم کے ذریعے برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ 24 جون کو چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی ترقی پر اعلیٰ سطحی مکالمے کا اہتمام کیا۔

    دراصل اس بار چین نے ورچوئل میڈیم کے ذریعے برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ 24 جون کو چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی ترقی پر اعلیٰ سطحی مکالمے کا اہتمام کیا۔

    • Share this:
      ایک ہوشیار سفارتی اقدام کرتے ہوئے، بھارت نے حال ہی میں برکس (BRICS Plus) پلس پروگرام میں پاکستان (Pakistan) کے داخلے کو روکنے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کیا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب چین نے مبینہ طور پر ہندوستان کو برکس کی میزبانی پر رضامندی دی۔ اس کے بعد ہندوستان نے برکس آؤٹ ریچ پروگرام میں پاکستان کا داخلہ روک دیا۔ اکنامک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہندوستان کے اس اقدام سے روس نے بھی اتفاق کیا تھا۔

      دراصل اس بار چین نے ورچوئل میڈیم کے ذریعے برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ 24 جون کو چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی ترقی پر اعلیٰ سطحی مکالمے کا اہتمام کیا۔ برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے علاوہ غیر برکس ممالک جیسے ایران، مصر، فجی، الجزائر، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائشیا نے بھی شرکت کی۔

      پاکستان نے کیسے شمولیت کی کوشش کی
      اس سلسلے میں پاکستان نے بھی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے برکس آؤٹ ریچ پروگرام میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ برکس سربراہی اجلاس کے دیگر مدعو کرنے والوں کی طرح پاکستان ابھرتی ہوئی منڈیوں کے زمرے میں نہیں آتا اور اس کی معیشت کو سری لنکا جیسے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان قرض کی ادائیگی میں بھی مسلسل نادہندہ ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: