உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت نے ’مفرور‘ قرار دیا،’جنگ‘ کے مالک ہوئے بری

    رحمن نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری زمین خریدنے کے الزامات کی تردید کی تھی۔ رحمن کا جنگ اخبار گروپ وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے۔ عمران خان نے 2018 میں اقتدار میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ رحمن کو کرپشن (ٹیکس چوری اور ہتک عزت) کے جرم میں جیل بھیجیں گے۔

    رحمن نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری زمین خریدنے کے الزامات کی تردید کی تھی۔ رحمن کا جنگ اخبار گروپ وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے۔ عمران خان نے 2018 میں اقتدار میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ رحمن کو کرپشن (ٹیکس چوری اور ہتک عزت) کے جرم میں جیل بھیجیں گے۔

    رحمن نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری زمین خریدنے کے الزامات کی تردید کی تھی۔ رحمن کا جنگ اخبار گروپ وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے۔ عمران خان نے 2018 میں اقتدار میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ رحمن کو کرپشن (ٹیکس چوری اور ہتک عزت) کے جرم میں جیل بھیجیں گے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کی ایک عدالت (Pakistani Court) نے ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن (Media Tycoon Mir Shakil-ur-Rahman) کو سابق وزیر اعظم نواز شریف (Nawaz Sharif)کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی زمین سے جڑے 34 سال پرانے کیس میں پیر کو بری کردیا ہے۔

      عدالت نے اس کیس میں شریف کو ’مفرور‘قرار دے دیا ہے۔ رحمن پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ کے مالک ہیں۔ اس گروپ میں پاکستان کے کچھ بڑے اخبارات اور جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے اس کیس میں رحمن کو مارچ 2020 میں گرفتار کیا تھا اور اسی سال نومبر میں سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کیا تھا۔

      شریف نے بری ہونے کے لئے دائر نہیں کی تھی درخواست
      عدالت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پیر کو لاہور کی ایک احتساب عدالت نے رحمن کو بری کر دیا کیونکہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ دو دیگر ملزمان - سابق ڈائریکٹر لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہمایوں فیض رسول اور سابق ڈائریکٹر (لینڈ) میاں بشیر کو بھی بری کر دیا گیا ہے۔

      سابق وزیراعظم شریف نے بری ہونے کے لئے کوئی درخواست دائر نہیں کی تھی۔ عہدیدار نے کہا کہ شریف نے اس معاملے میں کسی بھی عدالتی سمن اور سوالات کا جواب نہیں دیا، اس لیے انہیں مفرور قرار دیا گیا ہے۔ الزامات کے مطابق رحمن کو 1986 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف نے مختلف متعلقہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور میں 54 پلاٹ (ہر ایک 5,445 مربع فٹ) الاٹ کیے تھے۔

      رحمن کا سرکاری زمین خریدنے کے الزاموں سے انکار
      رحمن نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری زمین خریدنے کے الزامات کی تردید کی تھی۔ رحمن کا جنگ اخبار گروپ وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے۔ عمران خان نے 2018 میں اقتدار میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ رحمن کو کرپشن (ٹیکس چوری اور ہتک عزت) کے جرم میں جیل بھیجیں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: