உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کلبھوشن جادھو کو راحت، پاکستان نے وکیل مقرر کرنے کے لئے دیا مزید وقت

    کلبھوشن جادھو کو راحت، پاکستان نے وکیل مقرر کرنے کے لئے دیا مزید وقت

    کلبھوشن جادھو کو راحت، پاکستان نے وکیل مقرر کرنے کے لئے دیا مزید وقت

    ہندوستانی فوج کے ریٹائرڈ افسر، 50 سالہ کلبھوشن جادھو (Kulbhushan Jadhav) کو پاکستان (Pakistan) کی ایک فوجی عدالت نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں اپریل 2017 میں قصور وار ٹھہراتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) کی جیل میں بند ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو (Kulbhushan Jadhav) کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے منگل کو کلبھوشن جادھو کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ خود کے لئے ایک وکیل رکھنے کےلئے مزید وقت لے سکتے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ، جسٹ عامر فاروق اور جسٹس میانگ الحسن اورنگ زیب کی رتین رکنی بینچ نے وزارت قانون کی طرف سے دائر کیس کی سماعت کے بعد یہ حکم دیا۔ معاملہ کلبھوشن جادھو کو ایک کاونسل دینے سے متعلق تھا۔

      عدالت میں پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور کورٹ کے مشیر وکیل حامد خان بھی سماعت کے وقت وہاں موجود تھے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے 5 مئی کو اس سے متعلق حکم دیا تھا کہ کلبھوشن جادھو کو وکیل رکھنے کے لئے ایک اور موقع دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق، ہندوستان کو یہ پیغام دیا گیا تھا، لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا۔

      عدالت میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ کلبھوشن جادھو کو ایک وکیل دیا جائے، جو بند کمرے میں اکیلے ان سے بات چیت کرے، لیکن کسی بھی ملک میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کلبھوشن جادھو کو ہندوستانی کاونسلر کے ساتھ اکیلے میں بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ صرف ہاتھ ملاکر بھی کلبھوشن جادھو کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

      واضح رہے کہ ہندوستانی فوج کے ریٹائرڈ افسر، 50 سالہ کلبھوشن جادھو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں اپریل 2017 میں قصور وار ٹھہراتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی۔ ہندوستان نے کلبھوشن جادھو تک قونصلیٹ کی رسائی نہ ہونے دینے اور سزائے موت کو چیلنج دینے کے لئے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی عدالت(آئی سی جے) سے رجوع کیا تھا۔ ’دی ہیگ‘ واقع آئی سی جے نے جولائی 2019 میں فیصلہ دیا کہ پاکستان کو کلبھوشن جادھو کو قصور وار ٹھہرانے اور سزا سنانے سے متعلق فیصلے کا ’'مؤثر جائزہ اور ازسر نو غور' کرنا چاہئے اور بغیر کسی تاخیر کے ہندوستان کو جادھو کے لئے سفارتی پہنچ فراہم کرانے کا بھی موقع دیا جانا چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: