ہوم » نیوز » عالمی منظر

دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد کرنا پاکستان کو بڑا مہنگا، عالمی سطح پرلگا ایک اور جھٹکا

دنیا بھرمیں فنڈز کی فراہمی پر نظررکھنے منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے قائم کردہ عالمی نگراں ادارے کی ایشیاء پیسیفک برانچ (اے پی جی) نے سنیچرکواپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں، منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کی کی مالی مدد کے خلاف کارروائی کے لیے بنائے گئے 10شرائط میں سے پاکستان9 شرائط کو پورا نہیں کرپایاہے۔

  • Share this:
دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد کرنا پاکستان کو بڑا مہنگا، عالمی سطح پرلگا ایک اور جھٹکا
دنیا بھرمیں فنڈز کی فراہمی پر نظررکھنے منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے قائم کردہ عالمی نگراں ادارے کی ایشیاء پیسیفک برانچ (اے پی جی) نے سنیچرکواپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں، منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کی کی مالی مدد کے خلاف کارروائی کے لیے بنائے گئے 10شرائط میں سے پاکستان9 شرائط کو پورا نہیں کرپایاہے۔

پیرس میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کے سالانہ اجلاس سے پہلے پاکستان کو ایک جھٹکالگاہے۔ دنیا بھرمیں فنڈز کی فراہمی پر نظررکھنے منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے قائم کردہ عالمی نگراں ادارے کی ایشیاء پیسیفک برانچ (اے پی جی) نے سنیچرکواپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں، منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کی کی مالی مدد کے خلاف کارروائی کے لیے بنائے گئے 10شرائط میں سے پاکستان9 شرائط کو پورا نہیں کرپایاہے۔


اے پی جی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 پرعمل درآمد کے لئے پاکستان نے صحیح اقدامات نہیں کیے۔ اس نے اقوام متحدہ کے کالعدم دہشت گردوں اورحافظ سعید، مسعوداظہراورلشکر طیبہ جماعت الدعوۃ اورفلاح الاحسانیت فاؤنڈیشن جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف نرمی اختیارکی اور ٹھوس کارروائی کرنے سے گریزکیا۔


اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2008 میں یواین ایس سی آر 1267 کمیٹی کی رپورٹ میں ممنوعہ قراردی گئی جماعت الدعوۃ اور فلاح الاحسانیت فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان میں کھلے عام عوامی جلسوں کا انعقاد کرتے ہوئے فنڈ اکٹھا کیاجارہا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں ایسی بہت ساری خبریں آچکی ہیں، جن میں ایف آئی ایف کوانسانی امداد اورامداد کے نام پرچندہ جمع کرتے دیکھا گیاہے۔ ان تنظیموں کے ذریعہ ایمبولینس خدمات کے تسلسل نے یہ سوالات بھی اٹھائے کہ کیا ان کی مالی امداد کے خلاف مؤثر کارروائی کی گئی ہے؟


ہم آپ کوبتادیں کہ ایف اے ٹی ایف نے سال 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا ۔ پھراسے 15 ماہ میں اپنے بیان کردہ 27 نکات پرکام کرنا پڑا۔ 15 ماہ کی یہ مدت رواں سال ستمبرمیں مکمل ہوچکی ہے اوراب ایف اے ٹی ایف کا حتمی فیصلہ آناباقی ہے۔اس صورتحال میں اے پی جی کی یہ تازہ ترین رپورٹ پاکستان کے لئے نئی پریشانی پیدا کرسکتی ہے۔
First published: Oct 07, 2019 09:00 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading