உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan Economic Crisis:گرتی معیشت سے نبردآزما پاک کو اب چین سے امیدیں، ماہرین نے بتایا بیکار روایت

    معاشی بحران کا شکار پاکستان کو چین سے امیدیں۔

    معاشی بحران کا شکار پاکستان کو چین سے امیدیں۔

    Pakistan Economic Crisis: ماہر معاشیات نے کہا- ہم کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں! چین نے سی پیک کے تحت اپنی شرائط پر معاہدے کیے تھے۔ یہاں تک کہ اگر چین ادائیگی کو موخر کرتا ہے اور کچھ مالی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے،

    • Share this:
      اسلام آباد:Pakistan Economic Crisis:پاکستان کی حالت جو پہلے ہی ہنگامہ خیز معیشت سے نبردآزما ہے، اب ابتر ہو چکی ہے۔ پاکستان جس کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، اب اس نے اپنے دوست چین سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ بیجنگ اسے بچانے کے لیے ضرور آگے آئے گا۔ پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق چینی پیکج پر بھی کام جاری ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ چین سے یہ توقع رکھنا مناسب نہیں ہے۔

      اقتصادی مدد کی امید میں پاکستان
      شہباز شریف حکومت بھی امید کر رہی ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کر کے پاکستان خود کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتا ہے۔ اسے یہ بھی امید ہے کہ اس مشق کے ذریعے وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مالیاتی پیکج کے لیے اپنے شیشے میں اتارسکتے ہیں۔ پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کثیر الجہتی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے کی بھی امید کر رہا ہے۔

      چین پر نظریں
      پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ چین کی جانب سے مالی مدد کے حوالے سے پر امید ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی چینی ہم منصبوں سے بات چیت مثبت رہی۔ تاہم ایک نامور ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ چین سے توقعات رکھنا بے معنی ہے۔ ان کے نزدیک CPEC سے دستبرداری کی یقین دہانی کے بغیر لبرل آئی ایم ایف ڈیل کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Azadi March:پاک کی بدحال اقتصادی صحت پرنقصان پہنچارہاہے عمران کامارچ، پولیس نے کی یہ اپیل

      یہ بھی پڑھیں:
      ’میں تو مجنوں ہوں...‘ جب کورٹ کی سماعت کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نے خود کے لئےکہی یہ بات

      اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا
      ماہر معاشیات نے کہا- ہم کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں! چین نے سی پیک کے تحت اپنی شرائط پر معاہدے کیے تھے۔ یہاں تک کہ اگر چین ادائیگی کو موخر کرتا ہے اور کچھ مالی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تب بھی مالیاتی ایڈجسٹمنٹ اور ساختی اصلاحات کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام اور ترقی کا راستہ مشکل ہے۔ مالی بحران پر قابو پانے کے لیے ہمیں اپنے مالی معاونین کی ضرورت ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: