உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان الیکشن 2018: ریلیوں سے ووٹنگ تک 7 دہشت گردانہ حملوں میں 212 اموات

    پاکستان کے پرامن صوبہ بلوچستان کے کوئٹہ میں پولیس وین کو ہدف بناکرکئے گئے خود کش حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں اوردوبچوں سمیت کم ازکم 28 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ تقریباً 30 لوگ زخمی ہوگئے۔

    پاکستان کے پرامن صوبہ بلوچستان کے کوئٹہ میں پولیس وین کو ہدف بناکرکئے گئے خود کش حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں اوردوبچوں سمیت کم ازکم 28 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ تقریباً 30 لوگ زخمی ہوگئے۔

    پاکستان کے پرامن صوبہ بلوچستان کے کوئٹہ میں پولیس وین کو ہدف بناکرکئے گئے خود کش حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں اوردوبچوں سمیت کم ازکم 28 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ تقریباً 30 لوگ زخمی ہوگئے۔

    • Share this:
      پاکستان میں بھلے ہی بدھ کو انتخابی ماحول رہا ہو، لیکن ووٹنگ کے دوران وہاں ہوئے حملے میں کئی لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ پاکستان کے پرامن صوبہ بلوچستان کے کوئٹہ میں پولیس وین کو ہدف بناکر کئے گئے خود کش حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں اوردوبچوں سمیت کم ازکم 28 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ تقریباً 30 لوگ زخمی ہوگئے۔

      واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا کے مطابق یہ دھماکہ کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس کے قریب ہوا ہے، جس علاقے میں دھماکہ ہوا، وہ نیشنل اسمبلی 260 کے تحت آتا ہے۔ دھماکے میں مرنے والوں میں دوبچے بھی شامل بتائے جارہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس نے دھماکے کی ذمہ داری لی ہے۔

      الگ الگ حادثات میں تین دیگر لوگوں کی موت ہوئی، جس میں سابق کرکٹرعمران خان کے پاکستان  تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک ملازم کی خیبر پختنخوا کے اصوابی ضلع میں اور دوسرا مرپورخہ ووٹنگ مرکز کے باہر ہوئی  گولی باری میں ہوئی موت کی وجہ سے یہ اعدادوشمار 31 سے اوپر ہوگیا۔

      پاکستان کے 11 ویں عام الیکشن میں یہ ساتواں دہشت گردانہ واقعہ ہے، جس کی وجہ سے جولائی ماہ میں وہاں کے شہریوں کی موت کی تعداد بڑھ کر 212 ہوگئی ہے۔

      اس سے قبل 13 جولائی کو ہوئے حملے میں تقریباً 149 شہری مارے گئے تھے اور 186 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ خودکش حملہ آور نے بلوچستان کے مستنگ ضلع کے ڈرنگ گڑھ گاوں میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی سیاسی ریلی کو ہدف کرکے خود کو اڑا دیا تھا۔

      حالانکہ دہشت گردی سے متعلق اموات پر پاکستان میں گزشتہ دہائی کے مقابلے گراوٹ درج کی گئی ہیں، لیکن الیکشن کے دوران اس معاملے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر پاکستان میں (9 جولائی اور 15 جولائی 2018 کے درمیان) کم از کم 178 لوگوں کی دہشت گردنہ حملے میں اموات ہوئی ہیں۔

      کیا 2018 کا الیکشن جیتنے والی پارٹی دہشت گردانہ حملوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگی؟
      First published: