اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ، سفیر کے قتل کی کوشش، ایک سیکورٹی اہلکار زخمی

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ، سفیر کے قتل کی کوشش، ایک سیکورٹی اہلکار زخمی

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ، سفیر کے قتل کی کوشش، ایک سیکورٹی اہلکار زخمی

    حملے کے بعد طالبان کے سکیورٹی اہلکاروں نے سفارت خانے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ارد گرد کے علاقوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Kabul
    • Share this:
      افغانستان کے کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ ہوا ہے۔ اس حملے میں پاکستانی سفارتخانہ میں تعینات ایک سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگیا۔ پاکستان کے خارجہ دفتر کی جانب سے جاری ایک پریس اعلامیہ کے مطابق، کابل میں پاکستان کے سفارتخانے پر جمعہ کو حملہ کیا گیا، جس میں افغانستان میں پاکستان کے کارگزار سفیر عبیدالرحمن نظامنی کو نشانہ بنایا گیا۔

      پاکستانی دفتر خارجہ نے حملے کی مذمت کی
      دفتر خارجہ (ایف او) نے کہا کہ سفارتخانہ احاطہ پر حملہ ہوا، لیکن حملے کے وقت سفارتخانہ میں موجود پاکستان کے کارگزار سفیر نظامنی محفوظ ہیں۔ مشن سربراہ کی سیکورٹی کے دوران حملے میں ایک سیکورٹی گارڈ، سپاہی اسرار محمد شدید طور پر زخمی ہوگیا ہے۔ پریس اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، نظامنی کے خلاف قتل کی کوشش اور سفارتخانہ احاطے پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

      اس دوران، ایف او نے کہا کہ افغانستان کی عبوری حکومت فوری طور پر حملے کی مکمل تحقیقات کرے، قصورواروں کا احتساب کرے، انہیں جوابدہ ٹھہرائے، اور افغانستان میں پاکستانی سفارتی عملے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ بتا دیں کہ نظامنی نے گزشتہ ماہ 4 نومبر کو مشن سربراہ کا چارج سنبھالا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان نے اقوام متحدہ میں کہا-ہم نے یو این کے اندر مختلف آوازوں کو ظاہر کرنے کی کوشش کی

      یہ بھی پڑھیں:
      بائیڈن اور میکرون نے کیا عہد، یوکرین میں جنگی جرائم کے لیے روس کو ٹھہرائیں گے جواب دہ

      وہیں، طالبان کی ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فائرنگ سفارت خانے کے قریب واقع عمارت سے کی گئی۔ حملے کے بعد طالبان کے سکیورٹی اہلکاروں نے سفارت خانے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ارد گرد کے علاقوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ ابھی تک حملہ آوروں میں سے کوئی پکڑا نہیں جا سکا ہے۔ سفارت خانے پر حملے کی وجوہات بھی ظاہر نہیں کی گئیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: