உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کے رنگ میں رنگا پاکستانی میڈیا، نیوز اینکر نے لائیو ٹی وی میں پہنا حجاب، ویڈیو وائرل

    طالبان کے رنگ میں رنگا پاکستانی میڈیا، نیوز اینکر نے لائیو ٹی وی میں پہنا حجاب، ویڈیو وائرل

    طالبان کے رنگ میں رنگا پاکستانی میڈیا، نیوز اینکر نے لائیو ٹی وی میں پہنا حجاب، ویڈیو وائرل

    طالبان حکومت کے قیام کے بعد طالبان سے راغب ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ جمعہ کو ایک پاکستانی نیوز چینل کی اینکر (TV News Anchor) نے عجیب وغریب حرکت کی ہے۔ اس نے حجاب کو صحیح ٹھہراتے ہوئے لائیو کیمرے کے سامنے حجاب پہن کردکھایا اورکہا کہ اسے پہننے سے سوچ نہیں بدلتی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      اسلام آباد: ایک طرف پاکستانی وزیر اعظم عمران خان (Pakistan PM Imran Khan) مسلسل افغانستان (Afghanistan) میں طالبان کے اقتدار کو صحیح ٹھہرا رہے ہیں اور دنیا سے انہیں وقت دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہیں پاکستانی میڈیا (Pakistani Media) بھی پیچھے نہیں ہے۔ اس نے بھی طالبان حکومت کے لئے پروپیگنڈہ مشنری کا کام شروع کردیا ہے۔ جمعہ کو ایک پاکستانی نیوز چینل کی اینکر (TV News Anchor) نے تو عجیب وغریب حرکت کردی۔ اس نے حجاب کو صحیح ٹھہراتے ہوئے لائیو کیمرے کے سامنے حجاب پہن کر دکھایا اور کہا کہ اسے پہننے سے سوچ نہیں بدلتی۔



      کیا تھا پورا معاملہ

      سما ٹی وی کی نیوز اینکر کا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ اس لائیو ڈبیٹ میں پاکستانی پروفیسر پرویز ہڈ بھوئے بھی موجود تھے۔ جو بتا رہے تھے کہ اب پاکستانی یونیورسٹی میں بھی لڑکیوں کو حجاب پہننے کو کہا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں اینکر بھڑک گئی اور حجاب کی حمایت کی۔ انہوں نے اس موقع پر حجاب پہن کر دکھایا۔ ساتھ ہی کہا کہ حجاب پہننے سے  سوچ نہیں بدل جاتی ہے۔

      پروفیسر پرویز نے ایسا کیا کہا تھا؟

      قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفسیر پرویز ہڈ بھوئے نے کہا، ’میں نے سال 1973 سے پڑھانا شروع کیا، تب 47 سال پہلے ایک لڑکی بھی آپ بمشکل برقع میں دکھائی دیتی تھی۔ اب تو حجاب (برقع) عام ہوگیا ہے۔ اب تو عام لڑکی تو دکھائی ہی نہیں دیتی ہے۔ اور جب وہ کلاس میں بیٹھتی ہیں، حجاب میں لپٹی ہوئی تو ان کی ایکٹیویٹی کلاس میں بہت کم ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کلاس میں ہیں یا نہیں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: