உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان کی ٹکنالوجی اور ہتھیاروں سے ڈر گیا پاکستان، نئی سلامتی پالیسی میں تعلقات میں بہتری کی ظاہر کی خواہش، J&K پر بھی دیا بیان

    عمران خان نے پیش کی پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی۔

    عمران خان نے پیش کی پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ، ’ پاکستان ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام، خودمختار مساوات اور مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی بنیاد پر تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے پرعزم ہے (Pakistan First Security Policy) ۔ اس کا ماننا ہے کہ مشترکہ اقتصادی مواقع پاکستان اور خطے کی خوشحالی کے لئے سنگ بنیاد ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) نے جمعہ کو جاری اپنی پہلی قومی سلامتی پالیسی میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش ظاہر کی اور ہندوتووا پر مبنی پالیسیوں، ہتھیار جمع کرنے کی ریس اور زیر التوا تنازعات کے یکطرفہ حل تھوپنے کی کوششوں کو اس میں اہم رکاوٹ بتایا۔ قومی سلامتی پالیسی (Pakistan Security Policy) کے آرٹیکل سات میں ’بدلتی دنیا میں فارین پالیسی‘ عنوان کے تحت ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، مسئلہ کشمیر (Kashmir Issue) اور دیگر ممالک کےس اتھ دوطرفہ تعلقات کی بات کی گئی ہے۔

      پاکستان کے وزیراعظم عمران خان (Pakistan PM Imran Khan)نے110 صفحات کے اس دستاویز کا رسم اجرا انجام دیا جس میں کہا گیا ہے، ’ملک بیرون ملک میں امن پالیسی کے تحت پاکستان، ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔‘ حالانکہ انہوں نے کہا کہ’جموں کشمیر مسئلہ کا انصاف اور پرامن طریقے سے حل ہمارے دوطرفہ تعلقات کے اہم نکات میں شامل رہے گا۔‘ اُس میں کہا گیا ہے کہ ’ہندوستان میں ہندوتوا پر مبنی پالیسیوں کو فروغ دینا گمبھیر تشویش کا سبب ہے اور اس سے پاکستان کی سیکورٹی پر فوری اثر پڑتا ہے۔‘

      ہتھیاروں کو لے کر ظاہر کی تشویش
      اُس میں کہا گیا ہے،’ہتھیاروں کا ہندوستان میں بڑھتا ذخیرہ، انتہائی جدید تکنیک تک اُس کی پہنچ اور جوہری اسلحہ کی تخفیف سے چھوٹ، پاکستان کے لئے تشویش کا سبب ہے۔‘ دستاویز کے مطابق، ’زیر التوا معاملوں پر یکطرفہ پالیسی کے تحت کارروائی کی ہندوستان کی کوشش یکطرفہ حل تھوپنے کی کوشش ہے۔‘ پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی تشویش کے باوجود پاکستان، ’سبھی زیر التوا معاملوں کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنے میں یقین رکھتا ہے، حالانکہ ہندوستان کے حالیہ قدم اس سمت میں اہم رکاوٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔‘

      اقتصادی مواقع کو بتایا ضروری
      دستاویز میں کہا گیا ہے کہ، ’ پاکستان ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام، خودمختار مساوات اور مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی بنیاد پر تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے پرعزم ہے (Pakistan First Security Policy) ۔ اس کا ماننا ہے کہ مشترکہ اقتصادی مواقع پاکستان اور خطے کی خوشحالی کے لئے سنگ بنیاد ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: