اپنا ضلع منتخب کریں۔

    عمران خان پرقاتلانہ حملےکی سازش کس نے رچی ہے؟ پاکستانی فوج اورخفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پراٹھے سوال

    Youtube Video

    عمران پر قاتلانہ حملے کی سازش کس نے رچی ہے؟ فی الحال اس کا مکمل جواب دینا ممکن نہیں۔ الزامات براہ راست آرمی چیف اور وزیر اعظم پاکستان پر ہیں۔ ویسے پاکستان کی تاریخ گواہ ہے۔ پاکستان کے جرنیلوں کے خلاف جو بھی آواز اٹھاتا ہے اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کردی جاتی ہے

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Inter, IndiaIslamabadIslamabad
    • Share this:
      پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان پر جمعرات کی شام ہونے والے حملے کی خبر نے سب کو چونکا دیا ہے۔ پی ٹی آئی چیف کے لانگ مارچ کے دوران حملے کے بعد اس وقت کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پاکستانی فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی پر بھی شک کیا جا رہا ہے۔ حملے سے ایک روز قبل بدھ کو جنرل باجوہ نے پاک فوج کی ا سٹریٹجک فورس کی کمانڈ اور آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔

      عمران خان اور ان کے لوگوں نے اس حملے کا براہ راست ذمہ دار پاکستانی فوج کے ایک افسر کو قرار دیا ہے جس کا نام میجر جنرل فیصل سلطان بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں انڈین میڈیا کے ذرائع نے بتایا کہ لوگوں نے میجر جنرل فیصل کے گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ مشتعل افراد نے آرمی چیف باجوہ کے گھر کا گھیراؤ بھی کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں آرمی ہیڈ کوارٹرز کے باہر بھی زبردست مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ پاک آرمی چیف باجوہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

      عمران خان پر کیوں کی گئی فائرنگ؟


      عمران پر قاتلانہ حملے کی سازش کس نے رچی ہے؟ فی الحال اس کا مکمل جواب دینا ممکن نہیں۔ الزامات براہ راست آرمی چیف اور وزیر اعظم پاکستان پر ہیں۔ ویسے پاکستان کی تاریخ گواہ ہے۔ پاکستان کے جرنیلوں کے خلاف جو بھی آواز اٹھاتا ہے اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کردی جاتی ہے۔ چاہے وہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو ہوں یا پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان۔

      ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران خان بھی ریڈار پر تھے؟ اس لیے کہ عمران لانگ مارچ کے پہلے دن سے جنرل باجوہ کو براہ راست چیلنج دے رہے تھے۔ ٹھیک ہے، ان سوالات کا جادو وقت کے ساتھ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن عمران پر قاتلانہ حملے کے بعد پاکستان کے حالات بہت سنگین ہیں۔

      سرحد کے اس پار خانہ جنگی، کا پہلے ہی اندیشہ ظاہرکیاجارہاتھا۔ پاکستان کے ہر شہر میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ آتش زنی ہے۔ تقریباً ہر شہر میں احتجاج ہو رہا ہے۔ فوج اور شہباز حکومت کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

      یہ بھی پرھیں

      حکومت پاکستان نے الزامات کو کیا مسترد


      اس سے پہلے، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو الزام لگایا تھا کہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ اور ایک فوجی جنرل نے ان کے قتل کی ناکام کوشش کی۔ عمران کے قریبی ساتھی اسد عمر نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے یہ الزام لگایا۔

      وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تحقیقات میں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے احتجاجی مارچ کے دوران صوبہ پنجاب میں ان کے کنٹینر ٹرک پر حملہ ہوا، جس میں انہیں ٹانگ میں گولی لگی تاہم وہ خطرے سے باہر ہیں۔ اس حملے میں ایک شخص مارا گیا، جبکہ خان کی پارٹی نے دعویٰ کیا کہ یہ "قتل کی کوشش" تھی۔

      پولیس کے بیان اور پی ٹی آئی کے الزام پر سوال


      یہ واقعہ پنجاب کے وزیر آباد ٹاؤن میں اللہ والا چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب خان قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ پنجاب پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے میں سات افراد زخمی اور ایک شخص کی موت ہوئی اور ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

      پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد عمر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پارٹی کے صدر عمران خان نے تین مشتبہ افراد کے نام بتائے ہیں جو آج کے حملے کے پیچھے ہو سکتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ' عمران خان نے ہمیں فون کیا اور اپنی طرف سے ملک کو یہ پیغام دینے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ تین افراد وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر ان پر حملے کی سازش میں ملوث تھے۔

      جیو ٹی وی کے مطابق حملہ آور کی شناخت نوید کے نام سے ہوئی ہے۔ چینل نے کہا کہ تقریباً 20 سالہ حملہ آور نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور خان کی گاڑی کے ساتھ چل رہا تھا اور بائیں جانب سے فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے ملزم نے کہا کہ وہ خان کو قتل کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ "عوام کو گمراہ کر رہے ہیں"۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: