உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا عمران خان ہو جائیں گے گرفتار؟ جانیں پاکستان میں کیوں برے پھنسے PTI لیڈر

    کیا عمران خان ہو جائیں گے گرفتار؟ جانیں پاکستان میں کیوں برے پھنسے PTI لیڈر

    کیا عمران خان ہو جائیں گے گرفتار؟ جانیں پاکستان میں کیوں برے پھنسے PTI لیڈر

    عمران خان کی گرفتاری پر وارننگ دیتے پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان ان کی پارٹی کی ریڈ لائن ہے۔ انہیں گرفتار کرنے پر حکومت کو بے حد سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی پی ٹی آئی پہلے ہی دے چکی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایک بڑی ریلی میں پولیس اور ایک عدالتی افسر پر حملہ کرنے اور ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکانے کے الزامات میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 اگست تک گرفتاری سے راحت دے دی ہے۔

      عمران خان کے وکیل بابر اعوان اور فیصل چودھری نے ایک عوامی ریلی میں ایک خاتون جج اور سینئر پولیس افسران کو ’دھمکی‘ دینے کے لئے درج دہشت گردی کے معاملے میں عبوری ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضی دائر کی تھی۔ واضح رہے کہ 20 اگست کو اسلام آباد میں تقریر کے طور ایڈیشنل سیشن جج زیبا چودھری کو قابل اعتراض زبان کا استعمال کرنے اور دھمکی دینے کے الزام میں عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس، ڈپٹی آئی جی اسلام آباد پولیس کو بھی دھمکانے کا الزام ہے۔

      عمران خان کو پاکستان کی مرکزی جانچ ایجنسی ایف آئی اے (FIA) دو بار غیر قانونی فنڈنگ معاملے کی جانچ میں شامل ہونے کے لئے سمن بھیج چکی تھی۔ ایف آئی اے کے ذریعہ پہلا سمن 17 اگست کو بھیجا گیا تھا۔ وہیں جانچ میں شامل نہ ہونے پر انہیں تیسرا سمن 19 اگست کو بھیجا گیا تھا۔ اس سمن میں بھی شامل نہ ہونے کے بعد عمران خان کے خلاف ایف آئی اے تیسرا سمن بھیج کر انہیں گرفتار کرسکتی ہے۔

      پی ٹی نے گرفتاری پر وارننگ دی

      عمران خان کی گرفتاری پر وارننگ دیتے ہوئے پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان ان کی پارٹی کی ریڈ لائن ہے۔ انہیں گرفتار کرنے پر حکومت کو بے حد سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی پی ٹی آئی پہلے ہی دے چکی ہے۔ حکومت نے عمران خان کی تقاریر پر بھی روک لگائی ہوئی ہے۔ ٹی وی چینل سمیت یو ٹیوب پر بھی عمران خان کی تقریر راست طور پر نشر نہیں کی جا رہی ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: