ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستانی حکومت جنرل قمرجاوید باجوہ کی خدمات کی توسیع کے سلسلے میں سپریم کورٹ پہنچی

واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے 28 نومبر کو جنرل باجوہ کو چھ مہینے کی توسیع دی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 02, 2020 06:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پاکستانی حکومت جنرل قمرجاوید باجوہ کی خدمات کی توسیع کے سلسلے میں سپریم کورٹ پہنچی
پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی فائل فوٹو

اسلام آباد۔ پاکستانی حکومت نے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات میں توسیع کے سلسلے میں جمعرات کو عرضی داخل کرکے سپریم کورٹ سے 28 نومبر کے اس کے فیصلے پر اسٹے آرڈر کی درخواست کی ہے۔ پاکستانی حکومت نے اپنی عرضی میں سپریم کورٹ سے درخواست کی ہےکہ ’انصاف کے حق‘ میں وہ 28 نومبر 201 کے اپنے فیصلے پر روک لگانے سے متعلق حکم جاری کرے۔ اس ہائی پروفائل کیس میں حکومت کی طر ف سے دوسری مرتبہ ایسی عرضی داخل کی گئی ہے۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ دیتے وقت کئی اہم آئینی اور قانونی نقاط کو نوٹس میں نہیں لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دلیل دی ہے کہ فوجی سربراہ کی خدمات کے توسیع کے معاملے پر غور کرتے وقت اعلی عدالت نے ججوں کی معیاد کار میں اضافہ کئے جانے سے جڑے اپنے ہی فیصلے کو بنیاد نہیں بنایا ہے۔


واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے 28 نومبر کو جنرل باجوہ کو چھ مہینے کی توسیع دی تھی۔ یہ توسیع اس شرط کے ساتھ دی تھی کہ حکومت چھ ماہ کی مدت میں فوجی سربراہ کی خدمات کی توسیع یا نئی تقرری دینے کے لئے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کرائےگی۔ یہ فیصلہ اس وقت دیا تھا جب جنرل باجوہ 28 نومبرکی آدھی رات کو ہی ریٹائر ہونے والے تھے۔ اس سے پہلے پاکستانی حکومت نے اگست میں جنرل باجوہ کو اگلے تین برسوں کے لئے سروس میں توسیع دے دی  تھی جسے 26 نومبر کو سپریم کورٹ نے خارج کردیا تھا۔


آج دائر کی گئی عرضی میں کہا گیا ہےکہ ’’جب تک اس سول نظرثانی عرضی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں آجاتا تب تک سپریم کورٹ کو اپنےفیصلے پر روک لگانی چاہئے۔ اگر اس پر کوئی روک نہیں لگائی جاتی ہے تو عرضی گذاروں کو سنگین نقصان ہوگا اور چیف جسٹس کو نظرثانی عرضی پر سماعت کے لئے پانچ ججوں کی ایک بینچ کی تشکیل کرنی چاہئے۔ اس سے پہلے عرضی میں حکومت نے سپریم کورٹ کی پوری کارروائی کیمرے کے سامنے کرائے جانے کی درخواست کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ’اہم آئینی اور قانونی‘ نقاط کو شامل نہیں کیا تھا اور سپریم کورٹ ایڈیشنل اور اڈہاک ججوں کو خود ہی سروس میں توسیع دے رہا ہے اور یہ اس معاملے میں حکومت اپنے صوابدید کا استعمال کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ کل وفاقی کابینہ کی ایمرجنسی میٹنگ میں فوجی قانون میں ترمیم کو منظوری دی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ سبھی فوجی سربراہوں کے میعاد کار میں توسیع کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہوگا۔ اس معاملےمیں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی میں جمعہ کو ایک بل پیش کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو اپنے ایک مختصر فیصلے میں وفاقی حکومت کو فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دینے کی اجازت دی تھی اور 16 دسمبر کو سروس کی توسیع کے تعلق سے تفصیلی فیصلہ سنایا تھا۔
First published: Jan 02, 2020 06:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading