உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حافظ سعید کا "سیاسی خواب "جلد ہوسکتا ہے چکناچور ، جماعت الدعوۃ پر مکمل پابندی کی تیاری میں پاکستان

    پاکستانی میڈیا کے مطابق حکومت حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس سے وابستہ سبھی تنظیموں پر مکمل پابندی عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔

    پاکستانی میڈیا کے مطابق حکومت حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس سے وابستہ سبھی تنظیموں پر مکمل پابندی عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔

    پاکستانی میڈیا کے مطابق حکومت حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس سے وابستہ سبھی تنظیموں پر مکمل پابندی عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔

    • Share this:
      ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کا سیاسی اننگز شروع کرنے کا خواب چکناچور ہوسکتا ہے ۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق حکومت حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس سے وابستہ سبھی تنظیموں پر مکمل پابندی عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ مکمل پابندی کیلئے پاکستانی حکومت ایک مسودہ پر کام کررہی ہے جو صدر ممنون حسین کے آرڈیننس کی جگہ لے گا۔ مجوزہ نئے مسودہ کے قانون بننے کے بعد حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ سمیت اس سے وابستہ سبھی تنظیموں کی ہر طرح کی سرگرمیوں پر ہمیشہ کیلئے پابندی عائد ہوجائے گی۔
      در اصل پاکستانی صدر ممنون حسین نے اسی سال 13 فروری کو ایک آرڈیننس پر دستخط کیا تھا ، جس کا مقصد اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل ( یو این ایس سی ) کی جانب سے ممنوعہ تنظیموں لشکر طیبہ ، القاعدہ ، طالبان اور ان سے وابستہ لوگوں کی سرگرمیوں پر لگام لگانا تھا ۔ اس فہرست میں ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ بھی شامل ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں سال رواں ہی عام انتخابات ہونے والے ہیں اور حافظ سعید جماعت الدعوۃ کی ونگ ملی مسلم لیگ کے بینر تلے الیکشن لڑنے کا خواہشمند ہے۔
      آئین کے مطابق صدر کا یہ آرڈیننس پاس ہونے کے 120 دن کے اندر ختم ہوجائے گا ، ایسے میں پاکستانی حکومت اس سے پہلے ہی ایک ایسا قانون بنانا چاہتی ہے جو اس آرڈیننس کی جگہ لے سکے۔پاکستان کے مشہور انگریزی اخبار دی ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارت قانون کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ مسودہ انسداد دہشت گردی ایکٹ ( اے ٹی ) 1997 میں ترمیم کرنے کیلئے ہے ۔ اسے 9 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
      وزارت قانون کے مطابق حکومت نے یہ قدم فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف ) کے اس فیصلہ کے بعد اٹھایا ہے ، جس میں پاکستان کو دہشت گردوں کو فنڈ مہیا کرانے والے مشتبہ ممالک کی فہرست میں شامل کردیا گیا تھا۔
      غور طلب ہے کہ فروری میں ایف اے ٹی ایف نے پیرس میں ایک میٹنگ میں عام اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان کے خلاف یہ تجویز امریکہ نے پیش کی تھی اور اس کی صرف ایک ملک نے مخالفت کی تھی اور وہ ملک ترکی تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان کے پرانے ساتھی چین اور سعودی عرب نے بھی امریکہ کی تجویز کی حمایت میں ووٹ کیا تھا۔
      First published: