உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کا گھنوناچہرہ! خطرناک آفت میں سڑک پر رہ رہی ہندو خاتون کی مبینہ عصمت دری کا الزام

    ٹوئٹر پر وائس آف پاکستان مینارٹی نے الزام لگایا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان انتہائی مشکل وقت میں ہے، اس وقت اقلیتوں کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ٹوئٹر پر وائس آف پاکستان مینارٹی نے الزام لگایا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان انتہائی مشکل وقت میں ہے، اس وقت اقلیتوں کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ٹوئٹر پر وائس آف پاکستان مینارٹی نے الزام لگایا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان انتہائی مشکل وقت میں ہے، اس وقت اقلیتوں کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, Indiapakistanpakistanpakistanpakistan
    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان حالیہ تاریخ کے بدترین سیلابوں سے دوچار ہے۔ لیکن وہاں کے لوگ اپنے ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ سیلاب کے سبب عمرکوٹ میں گھر سے نکل کر سڑک پر رہنے والی ہندو خواتین سے زیادتی کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ ٹوئٹر پر وائس آف پاکستان مینارٹی نے الزام لگایا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان انتہائی مشکل وقت میں ہے، اس وقت اقلیتوں کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

      ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے عمرکوٹ کے ہندو اپنا گھر وار چھوڑ کر سڑک پر زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی خواتین کے ساتھ غنڈوں نے ریپ کی کوشش کی۔ حالانکہ شور مچانے پر غنڈے وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

      عدالت کا فیصلہ: ساس کا بہو کو طعنے دینا ظلم کے زمرے میں نہیں، جہیز و قتل کیس کا ملزم بری

      پاکستان میں 500روپئے کلو ٹماٹر اور 400 روپے میں پیاز، کیا ہندستان سے لے گا مدد

      پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں ہندو خواتین کے خلاف مظالم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرکے ان سے شادی کرنا عام بات ہے۔ دوسری طرف انکار پر کئی ہندو لڑکیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ایک ہندو لڑکی کرینہ کماری کو اغوا کر کے زبردستی مذہب تبدیل کرا دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایشوریہ نامی ہندو لڑکی کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ جولائی میں ایک 13 سالہ ہندو لڑکی سمرن کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے خلاف اقلیتی برادری نے کراچی پریس کلب پر احتجاج کیا اور ان کی بحفاظت واپسی کی التجا کی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: