உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان نے OIC میٹنگ میں الاپا کشمیر راگ، مسلم ممالک سے ظاہر کی ناراضگی، سعودی عرب کا بھی آیا بیان

    عمران خان نے OIC میٹنگ میں الاپا کشمیر راگ، مسلم ممالک سے ظاہر کی ناراضگی

    عمران خان نے OIC میٹنگ میں الاپا کشمیر راگ، مسلم ممالک سے ظاہر کی ناراضگی

    Imran Khan Kashmir OIC Summit: عمران خان نے مسلم ممالک کی تنظیم سے کہا کہ ہندوستانی حکومت کے ذریعہ جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ ختم کرنا دکھاتا ہے کہ ہم کسی بھی طرح سے ان پر دباو بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں مبینہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم نے کشمیر کے عوام کو مایوس کیا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت میں اسلامک تعاون تنظیم (Organization of Islamic Cooperation) کے 48ویں وزیر خارجہ کونسل (سی ایف ایم) کے افتتاحی سیشن کو خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کشمیر کا راگ الاپا اور مسلم ممالک سے ناراضگی ظاہر کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پوری دنیا میں اسلام مخالف نیریٹیو (اسلاموفوبیا) کی نشریات کے لئے مسلم دنیا کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

      عمران خان نے مسلم ممالک کی تنظیم سے کہا کہ ہندوستانی حکومت کے ذریعہ جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ (آرٹیکل 370) ختم کرنا دکھاتا ہے کہ ہم کسی بھی طرح سے ان پر دباو بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں مبینہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم نے کشمیر کے عوام کو مایوس کیا ہے۔

      مسلم دنیا کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر ایک ساتھ رہنے اور ایک گروپ کے طور پر بنے رہنے کی فوری ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا قتل کیا جارہا ہے اور غلط طریقے سے دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے۔ عمران خان کے علاوہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس فیضل بن فرحان نے بھی کشمیر کا موضوع اٹھایا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      راجیہ سبھا انتخابات پر ہنگامہ! کیجریوال پر برہم ہوئے نوجوت سنگھ سدھو

      مسلم دنیا خاموشی کے ساتھ دیکھ رہی ہے

      فلسطین اور کشمیر کے موضوع پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان علاقوں میں دن کے اجالے کی لوٹ کی جارہی ہے، جبکہ مسلم دنیا اسے خاموشی کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہندوستان جموں وکشمیر ریاست کی ڈیمو گرافکس کو مسلم اکثریتی ریاست میں بدل رہا ہے۔ یہ ایک جنگی جرم ہے‘۔ انہوں نے کہا، ’لیکن اس سے ہندوستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ مسلم دنیا اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے کچھ نہیں کر رہی ہے‘۔

      سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس فیضل بن فرحان نے بھی او آئی سی ممالک کو خطاب کرتے ہوئے فلسطین اور کشمیر کا موضوع اٹھایا۔ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس معاملے کو پُرامن طریقے سے حل کئے جانے کی وکالت کی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: