உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان کی Social Media ٹیم گرفتار، پاکستانی آرمی چیف کی کر رہے تھے تنقید

     پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے آٹھ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے آٹھ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    Pakistan political crisis: ایف آئی اے FIA کے مطابق خفیہ ایجنسوں سے آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف سوشل میڈیا مہم میں ملوث 50 مشتبہ افراد کی فہرست موصول ہوئی ہے۔ جن میں سے اب تک 8 ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) میں اقتدار کھونے کے بعد عمران خان (Imran Khan) کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ایک اور مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے آٹھ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی (PTI) کی سوشل میڈیا ٹیم نے مبینہ طور پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ (Army Chief General Qamar Javed Bajwa) کے خلاف مینہ طور پر بدنام کرنے کی مہم چلائی تھی۔

      پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) Pakistan's Federal Investigation Agency (FIA) نے منگل کے روز صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں سے آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے ججوں کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنانے جانت کو لیکرگرفتاریاں کیں۔ قابل ذکر ہے کہ عمران خان کو 8 اپریل کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تب سے ہی ان کی پارٹی اور سوشل میڈیا ٹیم ٹوئٹر پر پاکستانی فوج کے خلاف مسلسل مہم چلا رہی تھی۔

      عمران خان
      عمران خان


      یہ بھی پڑھیں: OMG! کار چلاتے ہوئے سو گیا ڈرائیور، فٹ پاتھ پر چڑھادی گاڑی، CCTV فوٹیج ہوا وائرل

      ایف آئی اے FIA کے مطابق خفیہ ایجنسوں سے آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف سوشل میڈیا مہم میں ملوث 50 مشتبہ افراد کی فہرست موصول ہوئی ہے۔ جن میں سے اب تک 8 ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

      مزید پڑھئے: Raj Thackeray کی مہاراشٹر حکومت کو وارننگ! 3مئی تک بند کریں مساجد کے Loudspeaker، ورنہ۔۔۔

      عمران خان کے قریبی ساتھی اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پی ٹی آئی سوشل میڈیا ورکرز کی ہراسانی کو چیلج دینے والی عرضی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اسے بدھ کو ہائی کورٹ میں داخل کیا جائے گا۔" دریں اثناء پاک فوج کے حکام کی میٹنگ میں سوشل میڈیا پر جاری مہم کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی اس سے نمٹنے کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دی گئیں۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: