உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب تنازع میں کودا پاکستان، پاکستانی وزرا نے ہندستان کے خلاف اگلا زہر

    حجاب تنازعہ میں کودا پاکستان، بھارت کے خلاف اگلا زہر: جانیں کس نے کیا کہا؟

    حجاب تنازعہ میں کودا پاکستان، بھارت کے خلاف اگلا زہر: جانیں کس نے کیا کہا؟

    اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی حجاب کے تنازع پر بیان بازی کی ہے۔ قریشی نے کہا کہ مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ہندوستان میں مسلمانوں کو دبانے کا منصوبہ ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد۔ ہندستان میں حجاب کے حوالے سے جاری بحث کے درمیان اب پاکستان (Pakistan) بھی کود پڑا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری (Fawad Chaudhry) اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی Shah Mahmood Qureshi نے کرناٹک کے اُڈپی سے شروع ہونے والے حجاب تنازع (Karnataka Hijab Row) پر بیان دیا ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ مودی کے بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے۔ غیر مستحکم قیادت میں ہندوستانی معاشرہ تیزی سے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔

      اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی حجاب کے تنازع پر بیان بازی کی ہے۔ قریشی نے کہا کہ مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ہندوستان میں مسلمانوں کو دبانے کا منصوبہ ہے۔

      فواد چودھری نے کیا کہا؟
      پاکستانی وزیر فواد چودھری نے ٹویٹ کیا، 'مودی کے ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے۔ غیر مستحکم قیادت میں ہندوستانی معاشرہ تیزی سے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کسی دوسرے لباس کی طرح حجاب پہننا بھی ذاتی ترجیح کا معاملہ ہے۔ شہریوں کو آزادی سے اپنے فیصلے کرنے کا حق دیا جانا چاہئے۔ اللہ اکبر.


      ملالہ یوسف زئی نے بھی دیا ردعمل، ملالہ یوسف زئی کی سیاسی لیڈران کو صلاح

      وبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی (Malala Yousafzai) نے منگل کو ٹویٹر پر کرناٹک میں چل رہے حجاب تنازع (Hijab Controversy) پر اپنے ڈر کو شیئر کیا ، جہاں مسلم لڑکیوں کو حجاب کے ساتھ کلاسیز میں شامل ہونے سے روک دیا گیا ہے ۔ ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ لڑکیوں کو ان کے حجاب میں اسکول جانے سے منع کرنا ڈراونا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کم یا زیادہ پہننے کیلئے کسی نہ کسی طرح سے خواتین کو ایک چیز کی طرح سمجھنا جاری رکھا گیا ہے ۔ لڑکیوں کے حقوق اور ان کی ان کی تعلیم کے بارے میں بولنے کیلئے 2012 میں پاکستان میں طالبان سے گولیاں کھانے والی نوبیل ایوارڈ یافتہ نے ہندوستانی لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ مسلم خواتین کو حاشیہ پر جانے سے روکیں ۔
      دنیا کی سب سے کم عمر کی نوبیل انعام یافتہ نے ٹویٹر پر لکھا : کالج ہمیں پڑھائی اور حجاب کے درمیان منتخب کرنے کیلئے مجبور کررہا ہے ۔ لڑکیوں کو ان کے حجاب میں اسکول جانے سے منع کرنا ڈراونا ہے ۔ کم یا زیادہ پہننے کیلئے خواتین کے تئیں نظریہ بنا رہتا ہے ۔ ہندوستانی لیڈروں کو چاہئے کہ وہ مسلم خواتین کو حاشیہ پر جانے روکیں ۔


      شاہ محمود قریشی بولے، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔۔۔

      قریشی نے ٹویٹ کرکے کہا، (ہندستان) مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کسی کو ایسے کسی بنیادی حق سے محروم کرنا اور حجاب پہننے کی وجہ سے اس پر ظلم کرنا ستم ہے۔ دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ یہ بھارتی حکومت کے مسلمانوں کو دبانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔



       

      کب اور کیسے شروع ہوا حجاب پر تنازعہ
      اس درمیان حجاب کو لے کر تنازع کی وجہ سے کرناٹک میں شروع ہوا احتجاج منگل کو پوری ریاست میں پھیل گیا ۔ کالج احاطہ میں پتھراؤ کے واقعات کی وجہ سے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنے کیلئے مجور ہونا پڑا ، جہاں ٹکراو جیسی صورتحال دیکھنے کو ملی ۔ دوسری جانب سرکار اور ہائی کورٹ نے امن بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے ۔
      دراصل کرناٹک میں حجاب کو لے کر تنازعہ یکم جنوری سے شروع ہوا تھا۔ پھر اوڈپی میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہننے پر کالج کے کلاس روم میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔ کالج انتظامیہ نے اس کی وجہ نئی یونیفارم پالیسی کو بتایا۔ اس کے بعد ان لڑکیوں نے کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی۔ لڑکیوں کا موقف ہے کہ انہیں حجاب پہننے کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 14 اور 25 کے تحت ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ ایک کالج سے شروع ہونے والا جھگڑا دوسرے کالجوں تک بھی پہنچ گیا۔ وہاں بھی حجاب پہننے والی لڑکیوں کو کالج میں داخلہ نہیں دیا گیا۔ تنازعہ اس وقت مزید بھڑک اٹھا جب طلبہ کا ایک اور گروپ بھگوا رومال، اسکارف اور صافے پہنے کالج میں آنے لگا اور جئے شری رام کے نعرے لگائےجانے لگے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: