ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کے سندھ اسمبلی میں چارپائی لے کر گھس گئے اراکین اسمبلی، دیکھیں ہنگامہ آرائی کا ویڈیو

اسمبلی سیشن (Sindh Assembly) کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ اراکین اسمبلی نے اسی کی مخالفت کی۔ اس دوران انہوں نے ’جمہوریت کا جنازہ‘ کے نعرے بھی لگائے۔

  • Share this:
پاکستان کے سندھ اسمبلی میں چارپائی لے کر گھس گئے اراکین اسمبلی، دیکھیں ہنگامہ آرائی کا ویڈیو
پاکستان کے سندھ اسمبلی میں چارپائی لے کر گھس گئے اراکین اسمبلی، دیکھیں ہنگامہ آرائی کا ویڈیو

کراچی: پاکستان (Pakistan) میں کچھ بھی ہوتا ہے، وہ انٹرنیٹ پر وائرل ضرور ہوتا ہے۔ تازہ معاملہ سندھ صوبہ کی اسمبلی (Sindh Assembly) کا ہے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) کی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی میں عجیب طریقے سے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی کے اندر چارپائی لے کر پہنچ گئے۔ اراکین نے چارپائی کے ذریعہ ’جمہوریت کا جنازہ‘ نکالنے کی کوشش کی۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔


دراصل، اسمبلی سیشن کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ اراکین نے اسی کی مخالفت کی۔ اس دوران انہوں نے ’جمہوریت کا جنازہ‘ کے نعرے بھی لگائے۔ اس پورے سانحہ کے ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین چارپائی کو اسپیکر کی کرسی کی طرف لے جا رہے تھے۔ حالانکہ، سیکورٹی اہلکاروں نے ایسا نہیں ہونے دیا اور چارپائی کو ایوان کے باہر کیا گیا۔


اسپیکر نے کئی بار ایوان کے وقار کو بنائے رکھنے کی اپیل کی


سندھ اسمبلی کے صدر آغا سراج خان درانی نے اپنے مارشل کو حکم دیا کہ وہ چارپائی کو ایوان کے اندر سے لے کر جائیں۔ انہوں نے اراکین اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے وقار کو بنائے رکھیں۔ اسپیکر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین نے ایوان کے تقدس کی توہین اور خلاف ورزی کی ہے۔

دیکھیں یہ ویڈیو۔



صحافیوں کی سیکورٹی والا بل پیش

اس پورے تنازعہ کے دوران صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور مکیش کمار چاولہ نے صحافیوں کے تحفظ والا بل پیش کیا۔ اسے ایوان سے منظوری مل گئی۔ مکیش کمار چاولہ نے اس چارپائی والی مخالفت کے خلاف زبردست پلٹ وار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان کی پی ٹی آئی ہے، جس نے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ ایوان کے اندر جم کر ہنگامہ ہونے کے سبب آخر کار اسپیکر نے اسمبلی کے سیشن کو 29 جون تک کے لئے ملتوی کردیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 29, 2021 11:59 AM IST