உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان پر چلے گا ملک سے غداری کا کیس؟ پاکستانی کابینہ نے کمیٹی تشکیل دی

    Pakistan Imran Khan: عمران خان کو اپریل ماہ میں اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیر اعظم عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے ان کی حکومت کی بے دخلی میں امریکہ کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

    Pakistan Imran Khan: عمران خان کو اپریل ماہ میں اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیر اعظم عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے ان کی حکومت کی بے دخلی میں امریکہ کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

    Pakistan Imran Khan: عمران خان کو اپریل ماہ میں اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیر اعظم عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے ان کی حکومت کی بے دخلی میں امریکہ کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ جیو نیوز کی خبر کے مطابق، پاکستان کی وفاقی کابینہ نے جمعہ کو ایک کمیٹی کی تشکیل کو منظوری دی، جو اس بات پر غور کرے گی کہ کیا پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر عمران خان سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ملک سے غداری کے خلاف کارروائی شروع کی جانی چاہئے یا نہیں؟

      عمران خان کو اپریل مہینے میں اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیر اعظم عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ حالانکہ، انہوں نے اسے ناقابل قبول کرتے ہوئے ان کی حکومت کی بے دخلی میں امریکہ کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ عمران خان (69) تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ سے معزول کئے جانے والے پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہین۔ بطور وزیر اعظم پاکستان مسلم لیگ-نواز (پی ایم ایل-این) کے شہباز شریف نے ان کی جگہ لی ہے۔

      عمران خان کو اپریل مہینے میں اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیر اعظم عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
      عمران خان کو اپریل مہینے میں اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیر اعظم عہدے سے ہٹا دیا تھا۔


      عمران خان، دیگر کے خلاف ملک سے غداری کی عرضی خارج

      اس سے قبل، پاکستان کی ایک عدالت نے گزشتہ 11 اپریل کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور مختلف وزرا کے خلاف ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے کی سفارش کرنے والی عرضی کو خارج کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ قبول کرنے کے لائق نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عرضی گزار مولوی اقبال حیدر پر 1,00,000 روپئے کا جرمانہ بھی لگایا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Dalai Lama Ladakh Visit: دلائی لامہ کے لداخ دورہ سے بوکھلایا چین، ہندوستان نے دیا دو ٹوک جواب

      عمران خان کے حامی اور فوج کے نقاد صحافی گرفتار

      دوسری طرف، پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے حامی اور فوج کے سخت نقاد سمجھے جانے والے ایک اہم ٹی وی صحافی کو 7 جولائی کو پھر سے گرفتار کرلیا گیا، جبکہ گرفتاری سے کچھ گھنٹے پہلے ہی ایک مقامی عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ پنجاب کی اٹک ضلع پولیس نے تشدد بھڑکانے اور نفرت پھیلانے کے الزام میں گزشتہ ماہ درج ایک معاملے میں 5جولائی کی رات اسلام آباد کے پاس سے عمران ریاض خان کو گرفتار کرلیا تھا۔ انہیں 6 جولائی کو اٹک شہر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

      مقامی عدالت سے بڑی راحت ملنے کے بعد عمران خان کو پھر سے گرفتار کرلیا گیا۔ صحافی سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی ہیں اور اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ عمران خان کو ہٹانے کے بعد سے طاقتور فوج کی تنقید کرتے رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: