ہوم » نیوز » عالمی منظر

عمران خان کے دور اقتدار میں دو وقت کی روٹی کیلئے بھی ترس رہا ہے پاکستان ، نانبائیوں نے دیا اب یہ الٹی میٹم

آٹے کی قیمت میں اضافہ کے ساتھ ہی اس کی قلت کو دور کرنے کی بجائے حکومت اور دیگر فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے اپنا اپنا دامن بچانے میں مصروف ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 19, 2020 10:45 PM IST
  • Share this:
عمران خان کے دور اقتدار میں دو وقت کی روٹی کیلئے بھی ترس رہا ہے پاکستان ، نانبائیوں نے دیا اب یہ الٹی میٹم
عمران خان کے دور اقتدار میں دو وقت کی روٹی کیلئے بھی ترس رہا ہے پاکستان ، نانبائیوں نے دیا اب یہ الٹی میٹم

پاکستان میں روزمرہ استعمال میں کام آنے والی کھانے پینے کی اشیاء کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بارے میں سبھی کو معلوم ہے اور اب قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ، جس سے ملک بھر میں لوگوں کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ آٹے کی قیمت میں اضافہ کے ساتھ ہی اس کی قلت کو دور کرنے کی بجائے حکومت اور دیگر فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے اپنا اپنا دامن بچانے میں مصروف ہیں ۔ پاکستان میں آٹے کا بحران گزشتہ کہیں ماہ سے جاری ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی حکومتوں کو کھانے کی اشیاء کی قیمت، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی روکنے میں سرگرم کردار ادا کرنے کے حکم کے بعد یہ بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔


ادھر خیبرپختونخوا کے نانبائیوں نے پیر کو حکومت کے خلاف ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کی کئی تنظیموں نے حکومت کو پانچ دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں پہلے کے دام پر آٹا دستیاب کرائے یا نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دے۔  روزنامہ ’ڈان‘ کے مطابق آٹے کا بحران سبھی چاروں صوبوں اور دارالحکومت اسلام آباد میں یکساں ہے۔ آٹے کا بحران ہفتہ کو اس وقت سیاست کے لپیٹے میں آ گیا ، جب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت والی وفاقی اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں نے اس بحران کی ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت والی سندھ حکومت پرڈال دی ۔ سندھ حکومت نے سینٹر پر گندم بحران کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔


نیشنل فوڈ سیکورٹی (ااین ایف ایس ) سکریٹری ہاشم پوپل زئی کا کہنا ہے کہ آٹے کی فراہمی کے لئے حال میں ہونے والی ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال بنیادی وجہ ہے ، جس کی وجہ سے ملوں کو وقت پر گندم کی سپلائی نہیں ہوسکی ۔ انہوں نے آٹے کی قلت کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا یہ بحران کچھ دن میں دور ہو جائے گا اور سندھ میں 20 مارچ اور پنجاب میں 15 اپریل تک گندم کی نئی فصل کی آجانے سے حالات میں مزید بہتر ی آئے گی ۔




پوپلزئی نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ اسے ایک کروڑ 40 لاکھ ٹن گندم خریدنے کے لئے کہا گیا تھا ۔ مگر صوبائی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں گندم کی مجموعی ماہانہ کھپت 22 لاکھ ٹن ہے اور حکومت کے پاس دکانوں میں پہلے ہی 42 ملین ٹن گندم کا اسٹاک ہے۔  پی ٹی آئی کے سابق جنرل سکریٹری جہانگیر ترين نے پاکستان میں جاری آٹے کے بحران پر کہا کہ آٹے کے دام جلد ہی نیچے آئیں گے ، کیونکہ وفاقی حکومت نے گندم کی ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت کا فیصلہ کیا ہے۔

مسٹر ترين وزیر اعظم عمران خان کے اس پی ٹی آئی ٹیم کے رکن ہیں ، جس کا قیام اتحادی پارٹیوں کو معلومات دینے کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ قبل جب بحران پیدا ہی ہوا تھا  ، تب وفاقی حکومت نے پاکستان زراعت اسٹوریج اور سروسز كارپوریشن کو چار لاکھ ٹن گندم مہیا کرایا تھا ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ كاپوریشن کے پاس اب بھی تین لاکھ ٹن گیہوں ہے اور حکومت ہر روز دس ہزار ٹن گندم کراچی اور حیدرآباد کو نیشنل لاجسٹك سیل ( این ایل سی ) کے ذریعہ بھیجے گی ۔ متحدہ نانبائی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار شفق قریشی نے کہا کہ مسٹر ترين اور حکومت کے دیگر نمائندوں کے علاوہ راولپنڈی کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کی گئی مگر کوئی حل نہیں نکلا ۔
First published: Jan 19, 2020 10:45 PM IST