உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی پولیس نے عمران خان کے لئے تیار رکھے ہیں آنسو گیس کے 40,000 گولے! کیا ہے اس کی وجہ؟

    پاکستانی پولیس نے عمران خان کے لئے تیار رکھے ہیں آنسو گیس کے 40,000 گولے!

    پاکستانی پولیس نے عمران خان کے لئے تیار رکھے ہیں آنسو گیس کے 40,000 گولے!

    Imran Khan Azadi March: ایکسپریس ٹریبیون اخبار کے مطابق، پارٹی کارکنان نے کہا کہ عمران خان عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر 9 اکتوبر کے کسی بھی وقت ریلی کا اعلان کرسکتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اتحادی حکومت کے خلاف ان کی یہ ’آخری‘ اپیل ہوگی اور اس کے بعد وہ مزید ریلیاں نہیں کریں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیر کے  روز اپنی پارٹی کے کارکنان نے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے اور ملک میں ازسر نو الیکشن کرائے جانے کے مطالبہ کے ساتھ اس ہفتے کے آخر میں ایک اور بڑے احتجاجی مظاہرہ کی تیاری کرنے کو کہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے بانی گالا واقع اپنی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ کے دوران ‘حقیقی آزادی مارچ‘ کی اپیل کی۔

      ایکسپریس ٹریبیون اخبار کے مطابق، پارٹی کارکنان نے کہا کہ عمران خان عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر 9 اکتوبر کے کسی بھی وقت ریلی کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اخبار نے عمران خان کے حوالے سے کہا، ’اس بار ریلی پوری تیاری کے ساتھ نکالی جائے گی‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحادی حکومت کے خلاف ان کی یہ ’آخری‘ اپیل ہوگی اور اس کے بعد وہ مزید ریلیاں نہیں کریں گے۔

      قابل ذکر ہے کہ 25 مئی کو ’آزادی مارچ‘ کے بعد عمران خان کی دوسری بڑی ریلی ہوگی۔ ’آزادی مارچ‘ کو ان کی پارٹی کے کارکنان کو وفاقی دارالحکومت میں پہنچنے کے بعد آخری وقت میں اچانک ختم کردیا گیا تھا۔

      اخبار کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ ریلی شروع ہونے سے پہلے ان کے کارکنان کو خصوصی احکامات دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’آپ (کارکنان) تیار رہے، میں آپ کو ریلی کے لئے بلاوں گا۔ اس بار ہم پوری تیاری کے ساتھ آئیں گے‘۔ عمران خان نے کہا کہ اتحادی حکومت کے خلاف ان کی یہ ’آخری‘ اپیل ہوگی اور اس کے بعد وہ مزید ریلیاں نہیں کریں گے۔ اس درمیان، راجدھانی علاقہ کی پولیس نے عمران خان کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے پیش نظر آنسو گیس کے 40,000 گولے تیار رکھے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: