உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہشت گرد حافظ سعید اورمسعود اظہرکے خلاف کارروائی میں بھی پاکستان کررہا ہے ہوشیاری

    حافظ سعید اور مسعود اظہر کے خلاف کارروائی کرنے میں پاکستان ہوشیاری سے کام لے رہا ہے۔

    حافظ سعید اور مسعود اظہر کے خلاف کارروائی کرنے میں پاکستان ہوشیاری سے کام لے رہا ہے۔

    پاکستان کی یہ کارروائی اس وارننگ کے بعد ہوئی ہے جب فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی میٹنگ میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

    • Share this:
      دہشت گرد حافظ سعید اورمسعود اظہر پرپھر سے پاکستانی رویے کی پول کھلتی نظرآرہی ہے۔ بین الاقوامی دباو اورخود کو دہشت گردی کے خلف کھڑا دکھانے کی کوشش کررہے پاکستان نے بھلے ہی ان دونوں پرکارروائی شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہو، لیکن یہ بھی تک صرف دکھاوا ہی ثابت ہوا ہے۔

      پاکستان نے ہندوستان میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں ان کے شامل ہونے کے حقائق کو کافی ہوشیاری سے چھپا لیا ہے۔ پاکستان نے اس دونوں کے خلاف کی گئی کارروائی کو ہندوستان میں ہوئے دہشت گردانہ حملے نہیں بلکہ دیگر دہشت گردانہ معاملوں کو ذمہ داربتایا ہے۔ ہندی اخبار 'امراجالا' کی ایک رپورٹ کے مطابق مسعود اظہرکو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے پیچھے اس کا اسامہ بن لادن کے ساتھ رہنا بتایا گیا ہے۔

      جیش محمد سرغنہ مسعود اظہرکے بارے میں چین کی مدد سے پاکستان یواین میں پلوامہ حملے میں اس کے ملوث ہونے کو چھپانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ کچھ اسی طرح سے حافظ سعید کے خلاف کی گئی حالیہ کارروائی میں کافی ہوشیاری دکھائی۔ حافظ سعید اوراس کے اداروں کے خلاف دہشت گردانہ فنڈنگ کرنے کا معاملہ درج کیا ہے، لیکن اس میں کہیں بھی ممبئی کے 26/11 حملے کا کہیں کوئی ذکرنہیں ہے۔

      رپورٹ کے مطابق ذرائع نے جانکاری دی ہے کہ پاکستان کو ممبئی میں حملے میں حافظ  سعید کی قیادت میں لشکرطیبہ کے ہاتھ ہونے کے مضبوط ثبوت دیئے ہیں۔ خود پاکستان نے جانچ میں پایا تھا کہ ممبئی حملے کی سازش سے لے کراس کو کروانے تک کے پیچھے لشکر اورحافظ سعید کا ہاتھ تھا۔ پاکستان کی جانچ میں یہاں تک کہا گیا تھا کہ حملے کے لئے قصاب سمیت 10 دہشت گردوں کو پاکستان میں ہی ٹریننگ دی گئی۔ انہیں ڈونگی (ناو) اورسیٹلائٹ فون لشکرنے ہی دلائے تھے۔ پاکستان نے یہ بات ہندوستان اورامریکہ سے ساتھ بھی شیئرکیا تھا۔
      First published: