உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹوٹنے کی طرف بڑھ رہا ہے پاکستان؟ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دعوے کے درمیان جانئے کیسے ہیں حالات؟

    پاکستان کےسابق وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹی وی چینل ’بول نیوز‘ کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔ یہ پاکستان اور فوج کی اصلی پریشانی ہے۔ اگر فوج نے صحیح فیصلہ نہیں لیا تو میں آپ کو لکھ کر دے رہا ہوں کہ وہ برباد ہوجائیں گے اور سب سے پہلے فوج ہی اس کا شکار ہوگی۔

    پاکستان کےسابق وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹی وی چینل ’بول نیوز‘ کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔ یہ پاکستان اور فوج کی اصلی پریشانی ہے۔ اگر فوج نے صحیح فیصلہ نہیں لیا تو میں آپ کو لکھ کر دے رہا ہوں کہ وہ برباد ہوجائیں گے اور سب سے پہلے فوج ہی اس کا شکار ہوگی۔

    پاکستان کےسابق وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹی وی چینل ’بول نیوز‘ کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔ یہ پاکستان اور فوج کی اصلی پریشانی ہے۔ اگر فوج نے صحیح فیصلہ نہیں لیا تو میں آپ کو لکھ کر دے رہا ہوں کہ وہ برباد ہوجائیں گے اور سب سے پہلے فوج ہی اس کا شکار ہوگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان میں ان دنوں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کی وجہ سے ہائے توبہ مچا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی تقسیم کو لے کر سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر سیاست گرمائی ہوئی ہے۔ عمران خان نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف قمر جاوید باجوا پر غلط فیصلے لینے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ اگر حالات نہیں سدھرے تو پاکستان تین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ عمران خان نے جو باتیں کہی ہیں، دنیا بھر کے تھنک ٹینک اس کا خدشہ بہت پہلے سے ظاہر کرتے ہیں۔ پورے پاکستان اور اس کے الگ صوبوں میں دنوں دن جس طرح سے حالات بگڑ رہے ہیں، وہ بھی اسی طرف لے جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

      سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹی وی چینل بول نیوز کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔ یہ پاکستان اور فوج کی اصلی پریشانی ہے۔ اگر فوج نے صحیح فیصلہ نہیں لیا تو میں آپ کو لکھ کر دے رہا ہوں کہ وہ برباد ہوجائیں گے اور سب سے پہلے فوج ہی اس کا شکار ہوگی۔ انہوں نے وارننگ دی کہ ایک بار جب ملک برباد ہوجائے گا، تب بین الاقوامی برادری پاکستان سے کہے گا کہ ہم ایٹمی ہتھیار چھوڑ دیں، جیسا کہ 1990 کی دہائی میں یوکرین نے کیا تھا۔

      عمران خان نے ایک ٹی وی چینل بول نیوز کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔
      عمران خان نے ایک ٹی وی چینل بول نیوز کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔


      عمران خان نے کہا تھا کہ اس طرح پاکستان خود کشی کی دہلیز پر ہے… ملک تین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بیرون ممالک میں ہندوستانی تھنک ٹینک بلوچستان کو الگ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ہندوستانی تھنک ٹینک کے پاس منصوبے ہیں اور اسی لئے میں وارننگ دے رہا ہوں۔ عمران خان نے حالانکہ تفصیل سے نہیں بتایا کہ پاکستان کس طرح ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا، لیکن 1971 کی یادیں تازہ کردی ہیں، جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔

      ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں چار الگ الگ وجوہات ہیں، جن کی اپنی الگ الگ زبانیں اور تہذیب وثقافت ہیں۔ افغانستان سے متصل خیبر پختونخوا ہے، ایران سرحد سے متصل بلوچستان ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے متصل سندھ اور پنجاب صوبہ ہیں۔ دنیا بھر کے تھنک ٹینکوں کی برسوں سے یہ رائے رہی ہے کہ اگر پاکستان میں امن قائم کرنا ہے تو اسے چار الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنا ہوگا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: