உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان سرکار کی تشکیل کو لے کر افغانستان کے سابق پی ایم حکمت یار سے ملے آئی ایس ائی چیف : رپورٹ

    طالبان سرکار کی تشکیل کو لے کر افغانستان کے سابق پی ایم حکمت یار سے ملے آئی ایس ائی چیف : رپورٹ

    طالبان سرکار کی تشکیل کو لے کر افغانستان کے سابق پی ایم حکمت یار سے ملے آئی ایس ائی چیف : رپورٹ

    Taliban in Afghanistan: طالبان افغانستان میں ایک "جامع" حکومت کو حتمی شکل دینے اور اس کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو گی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار سے ملک کی راجدھانی کابل میں ملاقات کی ۔ طلوع نیوز نے اتوار کو یہ جانکاری دی ہے ۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان افغانستان میں ’’ جامع ‘‘ حکومت کو حتمی شکل دینے اور اس کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ، جو عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو گی۔ جنرل فیض حمید ایک دن پہلے ہفتہ کو ہی کابل پہنچے ہیں۔

      حکمت یار کے قریبی ذرائع نے رپورٹ کی تصدیق کی اور افغان نیوز پورٹل کو بتایا کہ یہ ملاقات افغانستان میں اتحادی حکومت بنانے پر مرکوز تھی ۔ حکمت یار حزب اسلامی گلبدین پارٹی کے سپریمو ہیں اور 1990 کی دہائی کے دوران دو مرتبہ افغانستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی ہیں ، خاص طور پر طالبان کے ذریعہ نئی حکومت کو حتمی شکل دینے کے نظریہ سے ۔

      بتادیں کہ حکمت یار نے 17 اگست کو سابق افغان صدر حامد کرزئی اور  سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی ۔ حمید کا یہ دورہ 15 اگست کو طالبان کے کابل پر قبضہ کے بعد کسی پاکستانی عہدیدار کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ ہے ، جس نے ان کے دشمنوں اور دوستوں دونوں کو ہی حیرانی میں ڈال دیا ہے ۔

      توقع کی جا رہی تھی کہ طالبان ہفتہ کو کابل میں نئی ​​حکومت کے قیام کا اعلان کریں گے ، جس کی سربراہی اس کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کر سکتے ہیں ۔ تاہم طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد دوسری مرتبہ کابل میں نئی ​​حکومت کے قیام کے اعلان کو ملتوی کر دیا ہے ۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتہ کے روز کہا کہ نئی حکومت اور کابینہ کے ارکان کے بارے میں اعلان اب اگلے ہفتے کیا جائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: