ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان نے50ہزارٹن شکرکی درآمد کیلئے طلب کیاعالمی ٹینڈر،ہندوستان اوراسرائیل پر پابندی

پاکستان کو گذشتہ چند برسوں سے پیداواری قلت کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ پاکستان گھریلو دستیابی میں اضافے اور خوردہ قیمتوں کو چیک کرنے کے لئے چینی کی درآمد کرنے کی کوشش کررہا ہے جس میں پی کے آر 100 فی کلوگرام تک کا اضافہ ہوا ہے۔

  • Share this:
پاکستان نے50ہزارٹن شکرکی درآمد کیلئے طلب کیاعالمی ٹینڈر،ہندوستان اوراسرائیل پر پابندی
پاکستان نے 50 ہزار ٹن شکر کی درآمد کیلئے طلب کیا عالمی ٹینڈر، ہندوستان اور اسرائیل پر پابندی

پاکستان کی سرکاری تجارتی کمپنی ٹی سی پی نے پیر کے روز 50 ہزار سفید چینی کی درآمد کے لئے عالمی ٹینڈر جاری کیا۔ جس میں ہندوستان اور اسرائیل جیسے ممالک کی شرکت پر روک لگائی گئی ہے۔ اس تناظر میں انڈین شوگر انڈسٹری نے اس اقدام کو پڑوسی ملک کے لئے بد قسمتی قرار دیا ہے۔ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان  Trading Corporation of Pakistan  نے شکر کی درآمد کے لئے یہ تیسرا ٹینڈر جاری کیا ہے۔ اس سے قبل 50,000 ٹن میں سے دو ٹینڈرز کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے  منسوخ کردیاگیاتھا۔


پاکستان کو گذشتہ چند برسوں سے پیداواری قلت کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ پاکستان گھریلو دستیابی میں اضافے اور خوردہ قیمتوں کو چیک کرنے کے لئے چینی کی درآمد کرنے کی کوشش کررہا ہے جس میں پی کے آر 100 فی کلوگرام تک کا اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ ہفتے پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے شکر اور روئی دونوں اشیاء کو ہندوستان سے درآمد کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔ جس کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین تجارت کے دوبارہ آغاز کی اچھی امید وابستہ کی گئی۔ تاہم پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کر کے اس فیصلہ پر عمل آواری کو موقر کردیا ہے۔


پچاس ہزار ٹن سفید چینی کی درآمد کے لئے ایک نیا بین الاقوامی ٹینڈر جاری کرتے ہوئے ٹی سی پی نے عالمی فراہم کنندگان پر واضح کیا کہ ’کارگو (وائٹ شوگر) کی درآمد کا آغاز اسرائیل یا کسی دوسرے ممنوعہ ملک سے نہیں ہونا چاہئے‘۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر سپلائرز 14 اپریل تک بولی لگا سکتے ہیں اور یہ سامان کراچی کے کسی بھی بندرگاہ پر فراہم کیا جاسکتا ہے۔


اس پہل کے بعد آل انڈیا شوگر ٹریڈ ایسوسی ایشنAll India Sugar Trade Association  کے چیئرمین پرفل ویٹھلانی نے کہا کہ ’یہ پاکستان کی بد قسمتی ہے۔ کیا آپ کو شکر ہندوستان کے علاوہ کہیں اور سے مناسب قیمت، معیار اور تیز رفتاری کے ساتھ دستیاب ہوجائے گی؟انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’پاکستان کے لئے ہندوستان سے سفید چینی کی درآمد دوسرے ممالک کے مقابلے میں زمینی راستے کے ذریعہ بہت سستی، بہت جلد اور مناسب قیمت میں فراہم کی جاسکتی ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’پنجاب کے زمینی راستے سے سفید چینی کی لاگت فی ٹن 398 ڈالر ہوگی۔ جس میں مال برداری اور گودام تک شکر کی رسائی کے اخراجات شامال ہیں۔

آئی ایس ٹی اے کے مطابق ٹی سی پی نے اعلی قیمت کی وجہ سے چینی کی درآمد کے لئے پہلے دو ٹینڈر ختم کردیئے تھے۔ سب سے کم بولی اسے الخلیج، دبئی کے ذریعہ فی ٹن 540 ڈالر کے لگ بھگ ملی۔اکستانی تاجروں کے مطابق پاکستان رواں مالی برس 2020-21 (اکتوبر تا ستمبر) میں 5.6 ملین ٹن شکر کی پیداوار کی توقع کر رہا ہے، جبکہ برازیل کے بعد بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا شکر پیدا کرنے والا ملک ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 06, 2021 01:37 PM IST