உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کراچی یونیورسٹی میں دھماکہ، 3 چینی شہریوں سمیت 4 کی موت، BLA نے لی حملے کی ذمہ داری

    کراچی یونیورسٹی میں دھماکہ، 3 چینی شہریوں سمیت 4 کی موت

    کراچی یونیورسٹی میں دھماکہ، 3 چینی شہریوں سمیت 4 کی موت

    کراچی یونیورسٹی (Karachi University) احاطے میں منگل کو ایک کار میں زبردست دھماکہ ہوجانے کے سبب تین چینی شہری اور ان کے پاکستانی ڈرائیور کی موت ہوگئی۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے لی ہے۔

    • Share this:
      کراچی: کراچی یونیورسٹی (Karachi University) احاطے میں منگل کو ایک کار میں زبردست دھماکہ ہوجانے کے سبب تین چینی شہری اور ان کے پاکستانی ڈرائیور کی موت ہوگئی۔ اس دھماکے سے دو گارڈ سمیت دیگر لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ پاکستان (pakistan) میڈیا کے مطابق، یہ دھماکہ دوپہر تقریباً دو بجے کے وقت یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب ایک گاڑی میں ہوا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے لی ہے۔

      بلوچ لبریشن آرمی نے دعویٰ کیا کہ ایک خاتون خود کش حملہ آور شیری بلوچ عرف برمش نے حملے کو انجام دیا۔ اس سے قبل جولائی 2021 میں شمال-مغرب کے دسو میں ایک بس میں بمباری کے بعد سے پاکستان میں چینی شہریوں پر یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔ اس حملے میں نو چینی شہری مارے گئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے کراچی یونیورسٹی میں ہنگامہ کی صورتحال ہے۔ علاقے میں پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ دوسری جانب، کراچی کے پولیس سربراہ غلام نبی میمن نے بتایا کہ ہماری ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ اس حملے میں ایک خود کش حملہ آور ہوسکتا ہے۔



      انہوں نے کہا کہ جائے حادثہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک خاتون کو سر سے پیر تک کا برقع پہنے ہوئے گاڑی کے پاس جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے بعد ایک فوری دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے سے گاڑی کے اندر زبردست آگ لگ گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تین مہلوک چینی شہریوں میں چینی ساختہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرز بھی شامل تھے، جو چینی زبان کی گریجویٹ کلاسز کا انعقاد کرتے تھے۔ ان کے ساتھ دو دیگر ٹیچر تھے۔ افسران نے کہا کہ چوتھی گاڑی پاکستانی ڈرائیور کی تھی۔ پولیس افسر عبدالخالق نے کہا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

      سوشل میڈیا پر حادثہ کا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جس گاڑی میں دھماکہ ہوا، اس میں آگ کی لپٹیں نے گاڑی کو پوری طرح سے برباد کردیا۔ کچھ طلبا نے آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہیں۔ وہیں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے رینجر فوراً جائے حادثہ پر پہنچے اور انہوں نے علاقوں کی گھیرا بندی کی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ گاڑی میں سات سے آٹھ لوگ سوار تھے۔ حالانکہ ابھی تک نقصان کی صحیح تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: