ہوم » نیوز » عالمی منظر

کلبھوشن جادھو معاملے میں  پاکستان کے فیصلے کی تعریف لیکن کیوں اسے بے مطلب بتا رہا ہے ہندستان

پاکستان کی جانب سے کلبھوشن جادھو کو ملک کے کسی بھی ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ہندستان نے پڑوسی کے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے۔

  • Share this:

پاکستان کی جانب سے کلبھوشن جادھو کو ملک کے کسی بھی ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ہندستان نے پڑوسی کے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ حالانکہ ہندستان نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر جادھو کو ہندستانی وکیل مہیا نہیں کرایا جاتا ہے تو اس قانون کا کوئی بھی مطلب نہیں ہے۔ پاکستان کی فوجی کورٹ نے جادھو کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد ہندستان نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا رخ کیا تھا۔


پاکستان کی جیل میں قید کلبھوشن جادھو جلد ہی سزائے موت کے خلاف اپیل کرسکیں گے۔ دراصل پاکستان کی قومی اسمبلی نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس۔ری ویو اینڈ کنسیڈریشن۔ آرڈیننس دوہزار بیس کو منظور کر لیا ہے۔اس بل کے مطابق کلبھوشن جادھو اعلی عدالتوں میں موت کی سزاکےخلاف عرضی داخل کرسکیں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز پاکستان کے وزیر قانون فروغ نسیم نے اس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اب یہ بل سینیٹ میں جائے گا اور اگر وہاں سے منظوری مل جاتی ہے تو یہ صدر کی دستخط کے بعد قانون بن جائے گا۔چار برس قبل ملٹری کورٹ نے جاسوسی کے الزام میں کلبھوشن جادھو کو سزا سنائی تھی۔


 


بتادیں کہ مئی مہینہ کی شروعات میں کلبھوشن جادھو کی موت کی سزا کے معاملہ کی سماعت کررہی پاکستان کی ایک اعلی عدالت نے ہندوستان سے معاملات میں قانونی کارروائی میں تعاون کرنے کیلئے کہا تھا ۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ عدالت میں پیش ہونے کا مطلب خود مختاری میں چھوٹ نہیں ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی تین رکنی بینچ نے بدھ کو پاکستان کی قانون اور انصاف کی وزارت کی عرضی پر سماعت شروع کی ، جس میں جادھو کیلئے وکیل مقرر کرنے کی مانگ کی گئی ہے ۔

ڈان میں شائع ایک خبر کے مطابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بینچ کو بتایا تھا کہ آئی سی جے کے فیصلہ پر عمل کرنے کیلئے پاکستان نے گزشتہ سال آرڈیننس لاگو کیا ۔ تاکہ جادھو لیگل ریمیڈی حاصل کرسکیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت جان بوجھ کر عدالت کی سماعت میں شامل نہیں ہوئی اور پاکستان کی ایک عدالت کے سامنے مقدمہ پر اعتراض ظاہر کررہی ہے اور اس نے آئی ایچ سی کی سماعت کیلئے وکیل مقرر کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خود مختاری حقوق کی خودسپردگی کرنے کے مترادف ہے ۔

معاملہ کی سماعت کو 15 جون تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے ۔ غور طلب ہے کہ ہندوستانی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر جادھو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں اپریل 2017 میں موت کی سزا سنائی تھی ۔


Published by: Sana Naeem
First published: Jun 11, 2021 03:54 PM IST