உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں معاشی بحران کاخطرہ! فوجی سربراہ نےطلب کی امریکہ سےمدد، IMF سےمل پائےگافنڈ؟

    آرمی چیف کی طرف سے یہ اپیل ایک غیر معمولی بات ہے۔

    آرمی چیف کی طرف سے یہ اپیل ایک غیر معمولی بات ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو تصدیق کی کہ باجوہ اور شرمین نے بات کی ہے۔ وزارت کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت ہوئی ہے، لیکن اس مرحلے پر مجھے اس بحث کے مواد کا براہ راست علم نہیں ہے۔

    • Share this:
      پاکستانی حکام نے ہفتہ کے روز بتایا کہ پاکستان کے طاقتور آرمی چیف نے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے، جس میں معاشی بحران سے نبردآزما اپنے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 1.7 بلین ڈالر کی اہم قسط کی جلد از جلد ریلیز کے لیے امریکی مدد کی درخواست کی ہے۔

      متعدد سرکاری حکام کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ (Gen. Qamar Javed Bajwa) نے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین (Wendy Sherman) سے اس معاملے پر بات چیت کی اور واشنگٹن سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی مدد کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

      آرمی چیف کی طرف سے یہ اپیل ایک غیر معمولی بات تھی۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں خاص طور پر پڑوسی ملک افغانستان کے معاملے پر درست نہیں ہے۔ خاص طور پر سابق وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) کے دور میں تعلقات کشیدہ رہے، جنہیں اپریل میں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ میں بے دخل کر دیا گیا تھا۔ تاہم پاکستانی فوج نے اپنی 75 سالہ تاریخ کے نصف سے زائد عرصے تک بالراست ملک پر حکمرانی کی ہے۔ امریکہ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور القاعدہ کے خلاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سرکاری اتحادی تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      جموں وکشمیر: ہندوستانی فضائیہ کے شہید افسرکی آخری رسومات ادا، نم آنکھوں سے دی گئی وداعی

      ہندوستان کی ترقی میں رخنہ اندازی کرنے والوں کو NSA اجیت ڈوبھال نے دی وارننگ

      پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو تصدیق کی کہ باجوہ اور شرمین نے بات کی ہے۔ وزارت کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت ہوئی ہے، لیکن اس مرحلے پر مجھے اس بحث کے مواد کا براہ راست علم نہیں ہے۔
      یہ بھی پڑھیں: 

      Commonwealth Games 2022: ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم پاکستان کو شکست دینے اترے گی

      سوربھ گانگولی 50 کی عمر میں کریں گے کرکٹ میدان پر واپسی، کر رہے سخت ٹریننگ

      ہفتہ کو ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرنے والے عہدیداروں نے کہا کہ بات چیت آئی ایم ایف کے قرض پر مرکوز تھی۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف نے اصل میں 2019 میں بیل آؤٹ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ لیکن 1.7 بلین ڈالر کی قسط کا اجراء اس سال کے شروع سے روک دیا گیا ہے، جب آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے خان کی قیادت میں معاہدے کی شرائط کی تعمیل پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: