உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کےوزیر نے کہا- طالبان ہمارے لئے خطرہ، ہمیں جناح کا ملک واپس چاہیے

    پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری۔ (PTI)

    پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری۔ (PTI)

    اسلام آباد کے ایک پروگرام میں فواد چودھری نے کہا۔ ’ہم افغانستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن طالبان کی کٹروادی سوچ ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین اکیلے سفر نہیں کرسکتیں، اسکول نہیں جاسکتی، کالج نہیں جاسکتی، یہ پرانی سوچ پاکستان کے لئے خطرہ ہے۔ پاکستان کی اصلی لڑائی کٹرواد کے خلاف ہے۔‘

    • Share this:
      اسلام آباد: طالبان (Taliban) اور پاکستان (Pakistan) کی دوستی میں دراڑ آچکی ہے۔ افغانستان (Afghanistan) پر قبضہ جمانے کے لئے پاکستان نے جس طالبان کو ہتھیار اور ٹریننگ دے کر آگے بڑھایا تھا، اب وہی اُس کے لئے گلے کی ہدی بنتا جارہا ہے۔ پاکستان کے وزیراطلاعات فواد چودھری (Pakistan's Information minister Fawad Chaudhry) نے طالبان حکومت کے اُن فیصلوں پر تنقید کی ہے، جس میں خواتین پر کئی طرح کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ فواد چودھری نے اس پچھڑی سوچ کو پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ بتایا ہے۔ چودھری نے کہا۔ ’کٹروادی سوچ ہمارے لئے خطرہ ہے۔ ہمیں جناح (Muhammad Ali Jinnah) کا پاکستان واپس چاہیے۔

      طالبان کی سوچ پاکستان کے لئے خطرہ
      اسلام آباد کے ایک پروگرام میں فواد چودھری نے کہا۔ ’ہم افغانستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن طالبان کی کٹروادی سوچ ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین اکیلے سفر نہیں کرسکتیں، اسکول نہیں جاسکتی، کالج نہیں جاسکتی، یہ پرانی سوچ پاکستان کے لئے خطرہ ہے۔ پاکستان کی اصلی لڑائی کٹرواد کے خلاف ہے۔‘

      جناح بنانا چاہتے تھے اسلامی ملک
      جناح کا ذکر کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا-’ محمد علی جناح پاکستان کو ایک اسلامی ملک بنانا چاہتے تھے، مذہبی ملک نہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے سامنے جناح کا مذہبی علم کچھ نہیں تھا۔ اگر پاکستان کو ایک مذہبی ملک بنانا ہوتا، تو پھر اس کی تحریک مولانا لوگ چلاتے۔ جناح بہت ماڈرن تھے۔ آج اُن کے نام پر کچھ لوگ ملک کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم کا پاکستان واپس پانا ہمارے لئے اصلی چیلنج ہے۔‘

      بارڈر فینسک پر کشیدگی جاری
      طالبانی دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان بارڈر فینسنگ کو لے کر تنازع ابھی بھی جاری ہے۔ طالبان افغانستان-پاکستان کی سرحدی لائن کو نہیں مانتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مجموعی طور پر 2600 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ اس لئے بارڈر فینسنگ کی مخالفت ہورہی ہے۔ کچھ وقت پہلے پاکستانی فوج ننگرہار صوبے میں فینسنگ کررہی تھی۔ اسی دوران وہاں طالبانی جنگجو پہنچ گئے۔ طالبان نے تاروں کی فینسنگ کی مخالفت کی اور وہاں موجود سامان ضبط کرلیا۔ جھڑپ کے دوران فائرنگ کی بھی خبر سامنے آئی ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: