اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اسامہ بن لادین کو مارنے میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر کی جان کو خطرہ

    امریکی اسپیشل فورس نے 2011 میں ایبٹ آباد میں چھپے اوسامہ بن لادین کو گھر میں گھس کا مار گرایا تھا۔

    امریکی اسپیشل فورس نے 2011 میں ایبٹ آباد میں چھپے اوسامہ بن لادین کو گھر میں گھس کا مار گرایا تھا۔

    دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سرغنہ اوسامہ بن لادین کو مارنے میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر کی جان خطرے میں ہے۔

    • News18.com
    • Last Updated :
    • Share this:
      دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادین کو مارنے میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر کی جان خطرے میں ہے۔سکیورٹی کے مد نظر ڈاکٹر شکیل افریدی کو کسی نا معلوم جگہ شفٹ کرا دیا گیا ہے۔پاکستانی افسران نے جمعہ کو اس بات کی اطلاع دی۔بتادیں کہ دہشت گرد بن لادین کو کھوجنے میں سینٹرل انٹیلی جینس ایجنسی یعنی سی آئی اے کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل افریدی گزشتہ 7 سال سے جیل میں بند ہیں۔

      پاکستان کے شمال۔مشرق خیبر پختون خوا صوبے کے ایک جیل افسر نے کہا کہ افریدی کو اپنے گھر سے دور کسی محفوظ مقام پر بھیجا گیا ہے۔وہیں افریدی کے وکیل قمر ندی کا کہنا کہ پیشاور کی سینٹر جیل میں ان کے موکل کو اکیلے قید میں رکھا گیا ۔

      مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ،صوبائی حکومت نے درخواست کی کہ قیدیوں کے درمیان طالبانی دہشت گردوں کی موجودگی کے سبب افریدی کو پاکستان جیل سے کہیں اور شفٹ جیا جائے کیونکہ یہاں ان کی جان خطرے میں ہے۔

      واضح ہو کہ سال 2011 میں شکیل افریدی نے نقلی ہیپیٹائیس ویکسینینشن پروگرام کے سہارے اسامہ بن لادین کے اہل خانہ کی لوکیشن پتہ کی تھی۔انہوں نے ڈی این اے سینپل بھی لئے،جس سے یہ صاف ہو گیا کہ ایبٹ آباد کی کوٹھی مین رہنے والا شخص اسامہ بن لادین ہی ہے۔

      افریدی کی مدد سے خفیہ ایجنسی کو اسامہ کو مارنے میں مدد ملے،غور طلب ہے کہ امریکی اسپیشل فورس نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پاکستان مین اینٹری کی اور مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں چھپے دہشت گرد اسامہ بن لادین کو گھر میں گھس کر مار ڈالا۔(ایجنسی انپٹ کے ساتھ)۔
      First published: