உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Imran Khan کے خلاف جانے والے تھے قومی اسمبلی کے اسپیکر، نہیں کرنا چاہتے تھے، ’تحریک عدم اعتماد‘ خارج

    Imran Khan کے خلاف جانے والے تھے قومی اسمبلی کے اسپیکر

    Imran Khan کے خلاف جانے والے تھے قومی اسمبلی کے اسپیکر

    پاکستان کی نیوز ویب سائٹ ’دی نیوز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسپیکر نے عمران خان کی قانونی ٹیم کو سمجھانے کی پوری کوشش کی، لیکن جب رضامندی نہیں بن پائی تو اتوار کو اسد قیصر قومی اسمبلی میں نہیں گئے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد (No Confidence Motion) کو خارج کراکے وزیر اعظم عمران خان اپنی کرسی بچانے میں بھلے ہی کامیاب ہوگئے ہیں، لیکن ملک میں تیزی سے بدلتے سیاسی مساوات ان کی مشکلات میں بڑھا سکتے ہیں۔ اب پتہ چلا ہے کہ قومی اسمبلی (National Assembly) کے اسپیکر اسد قیصر آئین کے آرٹیکل پانچ کی بنیاد پر عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو خارج کرنے کے فیصلے کے حق میں نہیں تھے۔

      پاکستان کی نیوز ویب سائٹ ’دی نیوز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسپیکر نے عمران خان کی قانونی ٹیم کو سمجھانے کی پوری کوشش کی، لیکن جب رضامندی نہیں بن پائی تو اتوار کو اسد قیصر قومی اسمبلی میں نہیں گئے۔

      اس سے پہلے پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جیو نیوز کو بتایا تھا کہ آئین کے مطابق، وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ لازمی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قانونی ٹیم نے حکم کا مسودہ تیار کیا تھا، جسے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اتوار کو قومی اسمبلی میں پڑھا۔

      ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ ’یہ تحریک عدم اعتماد آئین کے خلاف ہے۔ میں اس تحریک عدم اعتماد کو آئین کے مطابق خارج کرتا ہوں‘۔ اس کے فوراً بعد عمران خان نے قوم کے نام ایک ٹیلی ویژن خطاب کے دوران اعلان کیا کہ انہوں نے صدر عارف علوی کو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مشورہ دیا اور انتخاب تین ماہ کے اندر ہوں گے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کون ہیں پاکستان کے چیف جسٹس، جنہوں نے روک دی تھیں عمران خان کی سانسیں

      اپوزیشن نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج دیا، لیکن اس کے باوجود صدر نے قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔ پی ایم ایل-این لیڈر شہباز شریف نے عمران خان پر آئین کی خلاف ورزی کرنے اور ملک میں شہری مارشل قانون نافذ کرنے کا الزام لگایا۔ چیف جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے سے متعلق وزیر اعظم اور صدر کے ذریعہ شروع کئے گئے سبھی احکامات اور کارروائی عدالت کے حکم کے ماتحت ہوں گے۔

      واضح رہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صرف دو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور شوکت عزیز کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اب تک کوئی بھی وزیر اعظم اپنی مدت پورا نہیں کر پایا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: