உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عیدالفطر کے بعد نواز شریف لوٹ سکتے ہیں Pakistan، اتحاد سے تبادلہ خیال کے بعد ہوگا فیصلہ

    عیدالفطر کے بعد نواز شریف لوٹ سکتے ہیں پاکستان، اتحاد سے تبادلہ خیال کے بعد ہوگا فیصلہ

    عیدالفطر کے بعد نواز شریف لوٹ سکتے ہیں پاکستان، اتحاد سے تبادلہ خیال کے بعد ہوگا فیصلہ

    پاکستان کے سابق وزیرا عطم نواز شریف آئندہ ماہ عیدالفطر کے بعد لندن سے اپنے وطن لوٹ سکتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ عمران خان کی حکومت گرنے کے بعد ملک میں سیاسی بونڈر کے درمیان پی ایم ایل-این کے ایک سینئر لیڈر نے یہ جانکاری دی ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیرا عطم نواز شریف آئندہ ماہ عیدالفطر کے بعد لندن سے اپنے وطن لوٹ سکتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ عمران خان کی حکومت گرنے کے بعد ملک میں سیاسی بونڈر کے درمیان پی ایم ایل-این کے ایک سینئر لیڈر نے یہ جانکاری دی ہے۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ- نواز (پی ایم ایل-این) سپریمو اور تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف کی واپسی پر فیصلہ اتحادی معاونین کے ساتھ سرخیوں میں لیا جائے گا۔ ’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ اخبار نے ان کے حوالے سے کبر دی ہے کہ سبھی فیصلے پہلے اتحادی جماعتوں کے سامنے رکھے جائیں گے۔ عید الفطر مئی کے پہلے ہفتے میں منائی جائے گی۔

      نواز شریف کو جولائی 2017 میں پاکستان کے سپریم کورٹ نے پناما پیپرس معاملے میں وزیر اعظم عہدے سے برخاست کر دیا تھا، جس کے بعد سے 72 سالہ پی ایم ایل این لیڈر کے خلاف اس وقت کی عمران خان کی قیادت والی حکومت نے بدعنوانی کے کئی معاملے شروع کئے تھے۔ نواز شریف علاج کرانے کے واسطے نومبر 2019 میں چار ہفتے کے لئے لندن گئے تھے۔ انہیں لاہور ہائی کورٹ نے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے ہائی کورٹ میں حلف نامہ دیا تھا کہ ڈاکٹر چار ہفتے کے اندر یا اس سے پہلے جیسے ہی انہیں صحتمند اور سفر کرنے کے لئے فٹ قرار دیں گے، وہ ویسے ہی ملک لوٹ آئیں گے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Pakistan کی نئی حکومت میں کون بنے گا وزیر خارجہ؟ اس نوجوان لیڈر کا نام سب سے آگے

      نواز شریف کو العزیزیہ ملس بدعنوانی معاملے میں بھی ضمانت مل گئی تھی، جس میں وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سات سال کی قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لطیف نے کہا کہ مخلوط حکومت چھ ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی اور موجودہ بحران کا واحد حل از سر نو انتخابات کرانا ہے۔ انہوں نے کہا، ’حالانکہ انتخابی سدھاروں کا یہ کام تھا، جو الیکشن سے پہلے کیا جانا تھا‘۔

      پی ایم ایل این کے لیڈر نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور غیر ملکی فرنچائز سے متعلق مسائل دو اہم مسائل ہیں، جنہیں جلد از جلد حل کیا جانا چاہئے۔ لطیف نے کہا، ’ای وی ایم باہری مداخلت کے تئیں انتہائی حساس ہوتی ہیں اور آر ٹی ایس کی طرح، اس سسٹم سے آسانی سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک غیر ملکی پاکستانیوں کا سوال ہے، ان کے لئے اپنا نمائندہ منتخب کرنے کے لئے خاص سیٹیں بنائی جاسکتی ہیں، جیسے کشمیر میں سیٹیں مہاجرین کے لئے محفوظ ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: