اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پاکستان کے نئے فوجی سربراہ عاصم منیر کی کیوں ہورہی ہے مخالفت؟ جانیے کیا ہے پورا معاملہ

    پاکستان کے نئے فوجی سربراہ عاصم منیر کی کیوں ہورہی ہے مخالفت؟ جانیے کیا ہے پورا معاملہ

    پاکستان کے نئے فوجی سربراہ عاصم منیر کی کیوں ہورہی ہے مخالفت؟ جانیے کیا ہے پورا معاملہ

    شہباز شریف حکومت نے گزشتہ کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں پر روک لگاتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو فوجی سربراہ بنانے کا فیصلہ لیاہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Islamabad
    • Share this:
      پاکستان میں نئے فوجی سربراہ عاصم منیر کے انتخاب سے ناراض دو سینئر جنرل نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ان میں ایک لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام ہے۔ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں آئی ایس آئی سربراہ تھے۔ دوسرے، اظہر عباس ہیں، وہ بھی عمران خان کے کافی قریبی تھے۔ اس سے یہ اندیشہ لگایا جارہا ہے کہ پاکستانی فوج میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ عاصم کے فوجی صدر انتخاب کی قیاس آرائیوں کے بعد سب سے پہلے عباس نے اپنے استعفیٰ کی خواہش ظاہر کی تھی۔

      اُدھر شہباز شریف حکومت نے گزشتہ کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں پر روک لگاتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو فوجی سربراہ بنانے کا فیصلہ لیاہے۔ عاصم 27 نومبر کو ریٹائر ہونے والے تھے۔ عاصم کو فور اسٹار رینک سے پرموٹ کرتے ہوئے فوج کا نیا جنرل بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد ان کو تین سال کا ایکسٹینشن دیتے ہوئے فوجی سربراہ بنایا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستان میں آرمی چیف کے بارے میں تبصرہ کرنے پر سینیٹر اعظم خان سواتی کو کیا گیا گرفتار

      یہ بھی پڑھیں:
      سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا اعلان، سبھی اسمبلیوں سے پارٹی دے دیگی استعفیٰ

      فوجی سربراہ کے لیے وزارت دفاع نے بھیجے تھے چھ نام
      پچھلے ہفتے پاکستان کی وزارت دفاع نے نئے فوجی سربراہ کے انتخاب سے جڑی تفصیل شریف کو بھیجی تھی۔ اس فہرست میں چھ لیفٹیننٹ جنرل کے نام تھے۔ اس فہرست میں فیض حمید اور اظہر عباس کا نام بھی شامل تھا۔ اُدھر سیاسی گلیاروں میں یہ بھی چرچا تھی کہ شہباز فوجی سربراہ کے لیے اسی کا نام آگے بڑھائیں گے جو عمران پر نکیل کسنے کی طاقت رکھتا ہو۔ ایک رپورٹ کے مطابق فوج کے دونوں افسروں نے ریٹائرمنٹ کی مانگ کی ہے۔ یہ قیاس لگائے جارہے ہیں کہ کم سے کم چار افسر اور استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: