உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan News Update: آرمی چیف قمر باجوا سے میٹنگ کے بعد عمران خان کا ملک کے نام خطاب منسوخ، کابینہ کی بلائی میٹنگ

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا۔ فائل فوٹو

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا۔ فائل فوٹو

    Pakistan Political crisis: پاکستانی میں سیاسی حالات ہر لمحہ کروٹ لے رہا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا سے ملاقات کے بعد ملک کے خطاب کو منسوخ کردیا ہے۔ ان کی پارٹی کی ترجمان نیلم ارشاد شیخ نے کہا کہ عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے۔ وہ منتخب وزیر اعظم ہیں۔ وہ آخری گیند تک میدان نہیں چھوڑیں گے۔ وہیں شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتقام لفظ اپوزیشن کی ڈکشنری میں نہیں ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان سے بڑا اپڈیٹ آیا ہے۔ آج پاکستان کے قومی اسمبلی میں عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز پر حتمی فیصلہ ہونے والا ہے، لیکن اس سے پہلے کئی ڈرامائی واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ پہلے یہ خبر تھی کہ عمران خان ملک کے نام خطاب کریں گے، لیکن اب خبر آرہی ہے کہ عمران خان کا یہ خطاب آرمی چیف جنرل قمر باجوا اور آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات کے بعد منسوخ کردی گئی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی خبر آرہی ہے کہ اب عمران خان استعفیٰ بھی نہیں دیں گے۔ بلکہ سیدھے قومی اسمبلی کے رخ کا انتظار کریں گے۔ اس سے قبل عمران خان نے کابینہ کی میٹنگ بلائی ہے۔

      عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کی ترجمان نیلم ارشاد شیخ نے کہا کہ عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے۔ وہ منتخب وزیر اعظم ہیں۔ وہ آخری گیند تک میدان نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر ملکی طاقتوں کی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔

      انتقام اپوزیشن کی ڈکشنری میں نہیں: شہباز شریف

      دوسری جانب اپوزیشن کے لیڈر اور وزیر اعظم عہدے کے دعویدار نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتقام لفظ اپوزیشن کی ڈکشنری میں نہیں ہے۔ ایم کیو ایم پی کے لیڈر خالد مقبول صدیقی نے حکومت سے حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تاریخی ہے اور ملک کی قیادت کا یہ اصل امتحان ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      عمران خان کے وزیر کا انکشاف- نواز شریف نے دیا تھا ہندوستان کو اجمل قصاب کا سراغ

      دو معاونین نے چھوڑا عمران خان کا ساتھ

      اس سے قبل عمران خان حکومت کی دو اہم اتحادی قومی موومنٹ-پاکستان (MQM-P) کے لیڈر خالد مقبول صدیقی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے ان کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔

      اپوزیشن کا 196 اراکین کی حمایت کا دعویٰ

      دوسری جانب قومی اسمبلی میں عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کے 22 اراکین اسلام آباد کے سندھ میں ایک جلسے میں موجود ہیں۔ جیو ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کے مطابق، یہ اراکین اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ اس طرح اپوزیشن خیمہ 196 اراکین کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: