پاکستان میں عمران خان کی مخالفت تیز، وزیراعظم نریندرمودی کے ہاتھوں کشمیرفروخت کردینےکا الزام

پاکستان حکومت پربین الاقوامی سازش کے تحت کشمیرکو فروخت کرنےکا الزام لگایا گیا ہےاور حکومت کوگرانے کے لئےجلد ہی اسلام آباد کو گھیرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

Aug 21, 2019 09:21 PM IST | Updated on: Aug 21, 2019 09:28 PM IST
پاکستان میں عمران خان کی مخالفت تیز، وزیراعظم نریندرمودی کے ہاتھوں کشمیرفروخت کردینےکا الزام

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان پرکشمیرکو فروخت کرنےکا الزام عائد کیا ہے۔ فائل فوٹو

پاکستان حکومت پربین الاقوامی سازش کےتحت کشمیرکوفروخت کرنے (بیچنے) کا الزام لگایا ہےاورحکومت کوگرانےکےلئےجلد ہی اسلام آباد کوگھیرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔ یہ الزام اورکسی نےنہیں بلکہ پاکستان کی مشترکہ اپوزیشن کےملٹی پارٹی کانفرنس (ایم پی سی) نےپاکستان حکومت پربین الاقوامی سازش کے تحت کشمیرکوبیچنےکا الزام لگایا ہےاور حکومت کوگرانےکے لئے جلد ہی قومی دارالحکومت کو گھیرنے کی وارننگ دی ہے۔

اخبارڈان نے منگل کوشائع ایک رپورٹ کے مطابق ایم پی سی کےکنوینراورجمعیۃ علمائے اسلام -ایف (جے یوآئی - ایف) کےسربراہ مولانا فضل الرحمن نےایک پریس کانفرنس میں کہا 'سبھی اپوزیشن جماعتوں نےاسلام آباد جانے کا فیصلہ لیا ہے'۔

Loading...

تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف ہیں متحد

مولانا فضل الرحمٰن نےکہا کہ مشترکہ اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کوایک ہفتہ کےاندرڈیمانڈ لیٹر تیارکرنےکےلئےکہا گیا ہے، تاکہ اسلام آباد جانےسے پہلےان کے ہاتھوں میں کچھ ہو، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کےسربراہ بلاول بھٹوزرداری اورپاکستان مسلم لیگ - نواز (پی ایم ایل - این) کےصدرشہبازشریف نےکانفرنس میں حصہ نہیں لیا۔ حالانکہ ان دواہم مخالف جماعتوں کےلیڈرکانفرنس میں موجود رہے۔ ان لیڈروں میں پی پی پی کےفرحت اللہ بار، شیریں رحمن اورنیرحسین بخاری اورپی ایم ایل - این کے سردارایازصادق، خواجہ آصف  اوراحسان اقبال موجود رہے۔

اپوزیشن بتا رہا ہے بین الاقوامی سازش کا حصہ

احسان اقبال اورنیرحسین بخاری کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مشترکہ کمیٹی کی رہبرکمیٹی 26 اگست کو ڈیمانڈ لیٹرلےکرآئے گی اوراگلی ایم پی سی کی میٹنگ 29 اگست کوہوگی، جس میں اہم اپوزیشن جماعتوں کے صدرمطالبات کا جائزہ لیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نےکہا 'مشترکہ اپوزیشن نےآج مہم چھیڑدی ہے، جوحکومت کو گرا کرہی رکےگی'۔ ہندوستان کےحصے والےکشمیرکے خصوصی درجہ کوختم کئے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پرمولانا فضل الرحمن نےکہا کہ حکومت نےایک بین الاقوامی سازش کےتحت کشمیرکوفروخت کیا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ پربھی سازش میں شامل ہونے کا الزام

اپوزیشن نےیہ بھی الزام لگایا کہ 'موجودہ حالات کودیکھتےہوئےاس خدشات کوبھی تقویت ملتی ہےکہ کشمیرسے متعلق فیصلہ گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ہوئی ملاقات کے دوران لیا گیا ہوگا۔ اگرہندوستان کشمیرکےمستقبل میں کوئی تبدیلی کرتا ہے توپاکستان اس پرخاموش رہےگا'۔ مولانا فضل الرحمن نےکہ 'آج پاکستان کے لوگ اورکشمیرکےلوگ ایک بین الاقوامی سازش کےشکارہوئے ہیں، جس میں حکومت شریک ہے۔ ہمارے منتظمین کارنےکشمیریوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے'۔

Loading...