உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan کے پاس بچا ہے صرف 5 دن کا تیل، بینکوں نے بھی دیا جھٹکا

    Pakistan Economic Crisis: کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ناپی جانے والی پاکستان کی عام افراط زر 24 ماہ کی بلند ترین سطح 13 فیصد پر ہے اور تقریباً تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ 'ڈان' اخبار کے مطابق، جنوری 2020 کے بعد یہ سب سے زیادہ سی پی آئی افراط زر ہے، جب یہ 14.6 فیصد تھی۔

    Pakistan Economic Crisis: کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ناپی جانے والی پاکستان کی عام افراط زر 24 ماہ کی بلند ترین سطح 13 فیصد پر ہے اور تقریباً تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ 'ڈان' اخبار کے مطابق، جنوری 2020 کے بعد یہ سب سے زیادہ سی پی آئی افراط زر ہے، جب یہ 14.6 فیصد تھی۔

    Pakistan Economic Crisis: کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ناپی جانے والی پاکستان کی عام افراط زر 24 ماہ کی بلند ترین سطح 13 فیصد پر ہے اور تقریباً تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ 'ڈان' اخبار کے مطابق، جنوری 2020 کے بعد یہ سب سے زیادہ سی پی آئی افراط زر ہے، جب یہ 14.6 فیصد تھی۔

    • Share this:
      اسلام آباد: اقتصادی تنگی سے پریشان ہو رہے پاکستان (Pakistan) کے سامنے ایک اور سب سے بڑی پریشانی پیدا ہوگئی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ (Russia-Ukraine War) کا اثر اب عمران خان (Imran Khan) حکومت پر بھی پڑنے لگا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت بڑھنے سے پاکستان پٹرولیم پیداوار کی کمی سے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس کے پاس ڈیژل کا صرف پانچ دنوں کا اسٹاک بچا ہے۔

      ایکسپریس ٹربیون اخبار کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی بینکوں نے بھی تیل کمپنیوں کو زیادہ خطرات والے زمرے میں رکھا ہے اور قرض دینے سے انکار کردیا ہے۔ ڈیژل کے بھنڈار میں آئی کمی کے ساتھ ہی پاکستان کی عمران خان حکومت بھی مشکل میں پھنس گئی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن متحد ہے تو دوسری طرف سے ملک میں اب ڈیژل کے بھنڈار میں کمی کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Karnataka Hijab Row: اسکول کالج میں حجاب پہن کر نہیں آسکیں گی لڑکیاں


      پاکستان کی عام مہنگائی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ناپی جاتی ہے اور یہ 24 ماہ کے اعلیٰ سطح 13 فیصد پر ہے اور تقریباً سبھی اشیا کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ ’ڈان‘ اخبار کے مطابق جنوری، 2020 کے بعد یہ سب سے زیادہ سی پی آئی افراط زر ہے جب یہ 14.6 فیصد تھا۔




      پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے جانے پر اپوزیشن کو نشانے پر لیتے ہوئے اتوار کو کہا کہ وہ ’آٹو، ٹماٹر‘ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے سیاست میں نہیں آئے۔ عمران خان نے پنجاب صوبہ کے حفیظ آباد میں ایک سیاسی ریلی میں کہا کہ ملک ان عناصر کے خلاف کھڑا ہوگا جو ’دھن بل کے ذریعہ سے‘ حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ (ایجنسی اِن پُٹ)
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: