உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیاسی پچ پر ’گگلی‘ پھینک کر پاکستانی وزیر اعظم Imran Khan نے اپوزیشن لیڈروں کو حیران کردیا

    سیاسی پچ پر ’گگلی‘ پھینک کر پاکستانی وزیر اعظم Imran Khan نے اپوزیشن لیڈروں کو حیران کردیا

    سیاسی پچ پر ’گگلی‘ پھینک کر پاکستانی وزیر اعظم Imran Khan نے اپوزیشن لیڈروں کو حیران کردیا

    Pak PM Imran Khan Googly: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے چاروں طرف سے گھرتا ہوا دیکھ کر اپنی گگلی سے سبھی اپوزیشن کو حیران کردیا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش کرکے سبھی کو حیران کردیا۔ عمران خان کے سبھی حامیوں نے اسے ایک گیند میں تین وکٹ لینا قرار دیا ہے۔ پاکستان کے صدر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان (Pakistan PM Imran Khan) کے مشورے پر اتوار کو قومی اسمبلی تحلیل کردیا۔ اس سے کچھ منٹ پہلے ہی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے ان کے خلاف پیش کئے گئے تحریک عدم اعتماد کو خارج کردیا تھا۔ عمران خان نے صدر جمہوریہ نے وسط مدتی انتخابات کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: کرکٹ کھلاڑی سے لیڈر بنے عمران خان (Pakistan PM Imran Khan) نے ملک کی سیاسی پچ پر ’گگلی‘ پھینک کر اپوزیشن لیڈروں کو حیران کردیا ہے۔ اپوزیشن کے ذریعہ قومی اسمبلی (National Assembly) میں عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل عمران خان نے صدر (President) سے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی سفارش کرکے اکثریت سے دور ہونے کے باوجود بازی پلٹ دی۔ عمران خان کے حامیوں نے اسے ایک گیند پر تین وکٹ لینا قرار دیا ہے۔

      پاکستان کے صدر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کے مشورے پر اتوار کو قومی اسمبلی تحلیل کردیا۔ اس سے کچھ منٹ پہلے ہی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے ان کے خلاف پیش کئے گئے تحریک عدم اعتماد کو خارج کردیا تھا۔ عمران خان نے صدر جمہوریہ نے وسط مدتی انتخابات کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

      اس سے قبل 342 رکنی قومی اسمبلی میں اکثریت کھو چکے وزیر اعظم عمران خان نے ایوان کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے ذریعہ پارلیمنٹ کے ہنگامہ دار سیشن کو ملتوی کئے جانے کے بعد ملک کے نام مختصر خطاب کیا۔ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد خارج کئے جانے پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے حکومت بدلنے کی کوشش کی اور غیر ملکی سازش کو ناکام کردیا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پاکستانی پارلیمنٹ میں امریکہ مردہ آباد کے نعروں کے درمیان اس طرح سے عمران خان کے خلاف خارج ہوا تحریک عدم اعتماد

      26 سالوں کا سیاسی سفر اتار چڑھاو بھرا رہا

      سال 2018 میں پاکستان کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے عمران خان کو سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ ان کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ بغاوتی تیور اپنائے جانے اور اتحادیوں میں اختلاف کے سبب عمران خان کی مشکلات بڑھ رہی تھیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے عمران خان 2018 میں نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے۔ حالانکہ، وہ مہنگائی سمیت عام عوام کی بنیادی پریشانیوں کو دور کرنے میں ناکام رہے۔ تقریباً 21 سالوں تک کرکٹ میدان میں اپنی اننگ کھیلنے والے عمران خان کا 26سالوں کا سیاسی سفر اتار چڑھاو بھرا رہا۔ اقتدار میں رہنے کے دوران عمران خان پر بیشتر اپوزیشن لیڈران کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام لگتے رہے اور یہی وجہ رہا کہ اپوزیشن لیڈران آسانی سے متحد ہوکر عمران خان کی قیادت والی حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتے ہوئے نظر آئے۔

      معیشت کے محاذ پر ناکام عمران خان

      حالانکہ گزشتہ بار جب مارچ 2021 میں عمران خان حکومت کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا تھا، تب وہ آسانی سے اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ عمران خان نے سال 1996 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تشکیل کی، جس کا مطلب ہے انصاف کے لئے آندولن۔ عمران خان 2002 میں الیکشن جیت کر قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ اس کے بعد وہ سال 2013 میں دوبارہ الیکشن جیت کر قومی اسمبلی پہنچے اور اس دوران ان کی پارٹی کو لوگوں کی حمایت ملی۔ سال 2018 کے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کو جیت دلانے کے بعد عمران خان پہلی بار پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان مسلسل پاکستان کو ایک ’اسلامک فلاحی قوم‘ بنانے کی بات کرتے رہے۔ حالانکہ وہ معیشت کے محاذ پر ناکام رہے اور ضروری اشیا کی قیمتیں بے قابو ہوگئیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: