ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان: کراچی کے گھروں پر آسمان سے برسیں تھیں، طیارے سے کود گئے تھے کئی لوگ، عینی شاہدین نے سنایا خوفناک حال

راجا احمد ان لوگوں میں سے ہیں جو کراچی کے اسی علاقے میں رہتے ہیں اور جن کے گھر اس کریش کی زد میں آگئے ہیں۔ راجا نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے نزدیک گھر ہونے کے چلتے کئی مرتبہ ہوائی جہاز کم اونچائی سے اڑتے ہیں لیکن جمعے کی دوپہر اچانک سے ایک طیارہ کی آواز نزدیک آتی گئی اور لگا گھر کے باہر کوئی دھماکا ہوا ہے ،راجا کے مطابق وہ مارکیٹ سے کچھ سامان لیکر اپنی گاڑی سے لوٹ رہے تھے کہ ایک زندہ آدمی آسمان سے ان کی گاڑی پر آکر گر گیا۔

  • Share this:
پاکستان: کراچی کے گھروں پر آسمان سے برسیں تھیں، طیارے سے کود گئے تھے کئی لوگ، عینی شاہدین نے سنایا خوفناک حال
راجا احمد ان لوگوں میں سے ہیں جو کراچی کے اسی علاقے میں رہتے ہیں اور جن کے گھر اس کریش کی زد میں آگئے ہیں۔ راجا نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے نزدیک گھر ہونے کے چلتے کئی مرتبہ ہوائی جہاز کم اونچائی سے اڑتے ہیں لیکن جمعے کی دوپہر اچانک سے ایک طیارہ کی آواز نزدیک آتی گئی اور لگا گھر کے باہر کوئی دھماکا ہوا ہے ،راجا کے مطابق وہ مارکیٹ سے کچھ سامان لیکر اپنی گاڑی سے لوٹ رہے تھے کہ ایک زندہ آدمی آسمان سے ان کی گاڑی پر آکر گر گیا۔

کراچی: پاکستان کے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب رہائشی علاقے میں جمعہ کی دوپہر لینڈنگ کرتے وقت ایک مسافر طیارہ (PIA Plane Crash) گر کر تباہ ہو گیا، جس سے 97 لوگوں کی موت ہو گئی۔ملی اطلاعات کے مطابق اس طیارہ میں عملے کے ارکان سمیت 100 سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ جن میں سے صڑف دو ہی بچ پائے ہیں۔ یہ طیارہ لینڈ کر رہا تھا اور رن وے سے کچھ سو فٹ کی دوری پرتکنیکی دقتوں کے چلتے یہ کراچی شہر کے ایک رہائشی علاقے میں کریشن ہوگیا۔ کراچی میں جہاں یہ طیارہ کریش ہوا وہاں کے لوگوں نے حادثے کا آنکھوں دیکھا حال سنایا جو کہ کافی خوفناک ہے۔


راجا احمد ان لوگوں میں سے ہیں جو کراچی کے اسی علاقے میں رہتے ہیں اور جن کے گھر اس کریش کی زد میں آگئے ہیں۔ نیوز ایجنسی ایف ایف پی سے بات چیت میں راجا نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے نزدیک گھر ہونے کے چلتے کئی مرتبہ ہوائی جہاز کم اونچائی سے اڑتے ہیں لیکن جمعے  کی دوپہر اچانک سے ایک طیارہ کی آواز نزدیک آتی گئی اور لگا گھر کے باہر کوئی دھماکا ہوا ہے ،راجا کے مطابق وہ مارکیٹ سے کچھ سامان لیکر اپنی گاڑی سے لوٹ رہے تھے کہ ایک زندہ آدمی آسمان سے ان کی گاڑی پر آکر گر گیا۔



راجا نے بتایا کہ جب وہ شخص گر ا تھا وہ زندہ تھا اور مدد کی التجا کررہا تھا ، ہم نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن طیارے میں ہونے والے دھماکے نے اس علاقے کو دھویں سے بھر دیا۔ راجا کے مطابق یہ شخص طیارے کے ایمرجنسی ایگزٹ سے چھلانگ لگانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن دروازے میں ہی پھنسا رہ گیاتھا۔ اس کا پاؤں بری طرح ٹوٹے ہوئے دروازے میں پھنس گیا تھا۔ ہم نے مدد کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بری طرح زخمی ہوگیا تھا۔
سندھ محکمہ صحت نے کہا کہ اب تک 97 لوگوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ مرنے والے سھی طیارہ کے مسافر تھے یا علاقے کے باشندے بھی شامل ہیں جہاں یہ حادثہ پیش آیا ہے۔


پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ اے 320 ایئربس جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا، جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 97 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ واقعہ ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں پیش آیا، جہاں طیارہ رہائشی مکانات پر جاگرا جس میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 لاہور سے 91 مسافروں اور عملے کے 8 افراد کو لے کر کراچی آرہی تھی۔ قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کے طیارہ حادثہ کی تیار کردہ ابتدائی رپورٹ کے حوالےسے ذرائع نے بتایا کہ لینڈنگ گیئر خراب ہونے پر پائلٹ طیارے کو لینڈنگ کے لیے نیچے لا رہے تھے۔ طیارہ لینڈنگ گیئر جام ہونے کے بعد ایک سے زیادہ پرندوں سے بھی ٹکرایا۔
اسی دوران طیارےکے دونوں انجن جزوی طور پر بند ہوگئے، انجنوں سے کم طاقت ملنے کے سبب جہاز کی بلندی انتہائی کم ہوتی گئی اور کچھ ہی دیر میں جہاز اپنی بلندی برقرار نہ رکھ سکا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر پائلٹ نے ’مے ڈے ‘ کی کال بھی دے دی۔ رپورٹ کے مطابق طیارہ رن وے پر پہنچنے سے پہلے ہی آبادی والے علاقے میں مکانات سے ٹکرا گیا، جس وقت طیارہ مکانات کی بالائی منزل سے ٹکرایا اس وقت وہ گلائیڈ کر رہا تھا۔
کراچی میں لینڈنگ سے عین قبل طیارہ میں تکنیکی خرابی آگئی ، جس کی وجہ سے طیارہ لینڈ نہیں کرسکا اور رہائشی علاقہ میں کریش کرگیا ۔
طیارہ حادثہ سے عین قبل پائلٹ اور ائیر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان بات چیت ریکارڈ کی گئی ہے ۔ فلائٹ ٹریکنگ کی ایک ویب سائٹ نے اس بات چیت کو ریکارڈ کیا ہے ۔ بات چیت میں طیارہ کا پائلٹ اپنے آخری پیغام میں کہہ رہا ہے کہ اس کے طیارہ کے دونوں انجنوں نے کام کرنے بند کردئے ہیں ۔ اس کے بعد آڈیو ٹوٹ جاتا ہے اور طیارہ کریش کرجاتا ہے ۔
اس بات چیت کو liveatc.net نام کی ویب سائٹ نے ریکارڈ کیا ہے ۔ یہ ویب سائٹ پوری دنیا کی ایوی ایشن پر نظر رکھتی ہے ۔ پاکستان ائیرلائنس کی فلائٹ نمبر PK 8303 کا پائلٹ کہتے ہوئے سناجا جاتا ہے کہ اس کے طیارہ کے دونوں انجنوں نے کام کرنے بند کردئے ہیں ، جس کے بعد وہ Mayday, Mayday کہنے لگتا ہے ۔ یہ پیغام ایمرجنسی کے حالات میں بین الاقوامی سطح پر پائلٹ کے ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے ۔
پاکستان کا ائیر ٹریفک کنٹرولر طیارہ کو گائیڈ کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دو مرتبہ لینڈنگ ناکام ہونے کے بعد طیارہ تیسری مرتبہ لینڈ کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔ پائلٹ اور اے ٹی سی کے درمیان آخری گفتگو کچھ اس طرح تھی ۔

پائلٹ : PK 8303 اپروچ

اے ٹی سی : جی سر

پائلٹ : ہم لوگ بائیں مڑ رہے ہیں ۔

اے ٹی سی : کنفرمڈ

پائلٹ : ہم لوگ سیدھے جارہے ہیں ۔ ہمارے دونوں انجنوں نے کام کرنے بند کردئے ہیں ۔

اے ٹی سی : کنفرم ۔ آپ بیلی لینڈنگ کی کوشش کیجئے ۔

پائلٹ : ( آواز نہیں سنائی دیتی ) ۔

اے ٹی سی : 2 ، 5 رن وے ددستیاب ہیں ۔

پائلٹ : روجر

اے ٹی سی : پاکستان 8303 ، روجر سر ، دونوں رن وے لینڈ کیلئے تیار ہیں ۔

اس کے بعد رابطہ منقطع ہوجاتا ہے اور کچھ ہی دیر کے بعد طیارہ کراچی کے رہائشی علاقہ میں حادثہ کا شکار ہوکر گر جاتا ہے ۔ حادثہ میں کئی لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے ۔

جہاں طیارہ حادثہ کا شکار ہوا ، وہاں سے بھی دھنواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ طیارہ کا ملبہ سڑکوں پر بکھرا ہے ۔ نیوز ایجنسی رائٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے چشم دید نے بتایا کہ طیارہ پہلے ایک موبائل ٹاور سے ٹکرایا ، اس کے بعد گھروں کے اوپر گر گیا ۔ اس علاقہ کی دوری ائیر پورٹ سے کچھ ہی کلومیٹر ہے ۔
First published: May 23, 2020 10:30 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading