کشمیر پر ہر جگہ منھ کی کھانے کے بعد اب جرمنی کی پناہ میں پہنچے پاک پی ایم عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کو جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکل سے کشمیر مسئلہ پر فون پر بات چیت کی۔

Aug 24, 2019 11:10 AM IST | Updated on: Aug 24, 2019 11:10 AM IST
کشمیر پر ہر جگہ منھ کی کھانے کے بعد اب جرمنی کی پناہ میں پہنچے پاک پی ایم عمران خان

عمران خان: فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کو جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکل سے کشمیر مسئلہ پر فون پر بات چیت کی۔  اس بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ ہندستان کی جانب سے جموں۔کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنے سے خطہ میں امن اور سکیورٹی پر سنگین اثر پڑے گا۔ اس لئے عالمی برادری کی فوری کارروائی کی ذمہ داری ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق مرکل نے کہا کہ جرمنی حالات پر قریب سے نظر بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی اہمیت کا ذکر کیا۔

ہندستان نے بین الاقوامی برادری سے واضح طور پر کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ ساتھ میں اس نے پاکستان کو اصلیت قبول کرنے کی صلاح دی تھی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مالدیپ کے اپنے ہم منصب عبداللہ شاہد کو بھی مسئلہ کشمیر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قریشی نے مالدیپ سے خطے میں امن و استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لئے تخلیقی کردار ادا کرنے کی گزارش کی۔

شاہد نے قریشی سے کہا  کہ مالدیپ کا خیال ہے کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 سے متعلق ہندستان کا فیصلہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ مالے میں مالدیپ کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہد نے ٹیلی فون کال کیلئے قریشی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور ہندستان دونوں مالدیپ کے قریبی دوست ہیں اور دوطرفہ شراکت دار ہیں۔شاہد نے پرامن اور خوشگوار ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ قریشی نے اپنے جاپانی ہم منصب تارو کونو سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا۔

Loading...

 

Loading...