உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا

    لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر

    لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر

    پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اگلے سربراہ کی تقرری کو لے کر تقریباً تین ہفتوں تک جاری تنازع کے بعد بالآخر وزیراعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو اگلا ڈی جی آئی ایس آئی۔ چیف مقرر کر دیا۔

    • Share this:

      اسلام آباد: پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اگلے سربراہ کی تقرری کو لے کر تقریباً تین ہفتوں تک جاری تنازع کے بعد بالآخر وزیراعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو اگلا ڈی جی آئی ایس آئی۔ چیف مقرر کر دیا۔ پی ایم آفس کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں لکھا گیا ہے کہ"وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی تقرری کو منظوری دے دی ہے۔ اس تقرری کا اطلاق بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس 20 نومبر 2021 سے ہوگا۔


      لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید 19 نومبر تک آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل انجم اس سے قبل کراچی کور کے کمانڈر تھے۔ انہیں ستمبر 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 78ویں لانگ کورس اور پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل انجم نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ نئے ڈی جی آئی ایس آئی اس سے قبل بلوچستان فرنٹیئر کور (نارتھ) کے انسپکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں اور کرم ایجنسی، ہنگو میں ایک بریگیڈ کی کمانڈ کر چکے ہیں۔ وہ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے فارغ التحصیل ہیں۔




      پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور کبھی ان کے خاص رہے آرمی چیف جنرل قمر باجوا نئے آئی ایس آئی چیف ندیم انجم کی تقرری سے متعلق آمنے سامنے آچکے تھے۔
      پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور کبھی ان کے خاص رہے آرمی چیف جنرل قمر باجوا نئے آئی ایس آئی چیف ندیم انجم کی تقرری سے متعلق آمنے سامنے آچکے تھے۔

      عمران خان اور جنرل قمر باجوا میں اختلاف؟


      اس سے قبل پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور کبھی ان کے خاص رہے آرمی چیف جنرل قمر باجوا نئے آئی ایس آئی چیف ندیم انجم کی تقرری سے متعلق آمنے سامنے آچکے تھے۔ قمر باجوا کی مہر لگنے کے 11 دن بعد بھی عمران خان نے نئے آئی ایس آئی چیف ندیم انجم کو ان کی تقرری کو ہری جھنڈی نہیں دی تھی۔ اس سے آرمی چیف باجوا، عمران خان کو آنکھیں دکھا رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے ہی جنرل قمر باجوا کا سروس ایکسٹینشن کیا تھا۔ اب پاکستانی میڈیا کے حلقوں اور سیاست کو سمجھنے والے کہنے لگے تھے کہ جلد ہی ملک میں ’مارشل لا‘ لگ سکتا ہے۔ حکومت کو ہٹاکر آرمی ٹیک اوور کر سکتی ہے۔ اس کے پیچھے ان کے ترک تاریخ میں چھپے ہوئے ہیں۔ 22 سال پہلے 12 اکتوبر 1999 کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ پلٹ کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت بھی دونوں کے درمیان آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کو لے کر اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔ تختہ پلٹ کے دوران وزیر اعظم نواز شریف اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ضیا الدین بٹ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان میں پہلا موقع تھا جب کسی آئی ایس آئی چیف کو بھی گرفتار کیا گیا۔


      آئی ایس آئی چیف اور نواز شریف میں خون کا رشتہ: پاک آرمی

      بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فوج میں اس وقت مذاق اڑایا جاتا تھا کہ نواز شرف کا جنرل ضیا الدین بٹ سے خون کا رشتہ ہے۔ اس لئے انہوں نے بھروسے مند آئی ایس آئی عہدے پر انہیں بٹھایا۔ وہیں پرویز مشرف اپنے خاص لیفٹینںٹ جنرل عزیز خان کو خفیہ ایجنسی کا سربراہ بنانا چاہتے تھے، لیکن نواز شریف کے یکطرفہ فیصلے پر مشرف خون کا گھونٹ پی کر رہ گئے اور انہیں سبق سکھانے کے لئے پلان بنانے لگے۔ تقریباً ایک سال بعد انہوں نے اپنا بدلہ لے بھی لیا۔

      بٹ پر بھروسہ نہیں کرتے تھے پرویز مشرف

      پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دی لائف آف فائر‘ میں آئی ایس آئی چیف جنرل ضیا الدین پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ پہلے دن سے انہوں نے آئی ایس آئی سے اہم فائلیں اور اسکیمیں واپس لے لی تھیں۔ کشمیر اور افغانستان سے جڑی ذمہ داری اس وقت کے چیف آف جنرل اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل عزیز کو سونپ دی تھیں۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: