உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی وزیر اعظم Imran Khan کا مستعفی ہونے سے انکار، اتوار کو ہوگا پاکستانی حکومت کا فیصلہ

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا مستعفی ہونے سے انکار

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا مستعفی ہونے سے انکار

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) ملک کو خطاب کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔ CNN-News18 نے اپنی پڑتال میں پتہ لگایا ہے کہ عمران خان اپنے خطاب میں سنسنی خیز انکشاف کرنے والے ہیں۔ وہ ایسا خطاب پیش کرنے والے ہیں، جس سے اپوزیشن کی اتحاد پر اثر پڑسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) ملک کو خطاب کے دوران مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔ قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  اتوار کو اس ملک کا فیصلہ ہونے والا ہے کہ ملک کس طرف جائے گا، قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کدھر جائے گا۔ مجھے کہا گیا کہ استعفیٰ دے دیں، میں آخری گیند تک مقابلہ کرتا ہوں ، ہار نہیں مانوں گا، دیکھنا چاہتا ہوں کہ کون جا کر اپنے ضمیر کا فیصلہ کرتا ہے، اگر کسی کو ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا تو استعفیٰ دیتے، ہم نوجوانوں کو آج کیا پیغام دے رہے ہیں۔ الٹا بھی لٹک جائیں تو کوئی نہیں مانےگا کہ یہ تین لوگ کوئی نظریاتی ہیں۔

      امید ہے ہمارے لوگ ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے: عمران خان

      منحرف اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران نے کہا کہ ہمیشہ کیلئے آپ پر مہر لگ جانی ہے، نا لوگوں نے آپ کو معاف کرنا ہے اور نہ بھولنا ہے، نہ ان کو معاف کرنا ہے جو ہینڈل کررہے ہیں۔ برصغیر کی تاریخ کیا ہے؟ میر صادق اور میر جعفرکون تھے، جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر اپنی قوم کو غلام بنایا، یہ موجودہ دور کے میر جعفر اور میر صادق ہیں، آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ اس سازش کو کامیاب ہونے دیں تو سامنے کھڑا ہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ سندھ ہاؤس میں موجود ہمارے لوگ ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے ورنہ قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی، میں خاموش نہیں بیٹھوں گا، مجھے پرچی یا وراثت میں وزارت نہیں ملی، میں جدوجہد کرکے یہاں پہنچا ہوں، مقابلہ کروں گا۔

      انہوں نےکہا کہ 7 یا 8 مارچ کو ہمیں امریکہ (ایک ملک) سے پیغام آیا، مجھے ملک کا نام نہیں لینا  تھا، ہے تو یہ وزیراعظم کے خلاف، ان کو  پہلے سے  پتہ تھا کہ تحریک عدم اعتماد آرہی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اپوزیشن کے پہلے سے ہی باہر کے لوگوں سے رابطے تھے، یہ پاکستان کی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ عمران خان کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر عمران خان چلا جاتا ہے، تو ہم پاکستان کو معاف کردیں گے، لیکن اگر تحریک ناکام ہوئی تو پاکستان کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

      عمران خان نے کہا، ہمارے پاس سب کچھ تھا، جتنے مجھے پیسے چاہئے تھے، سب تھے۔ میں آزاد پاکستان میں پیدا ہوا۔
      عمران خان نے کہا، ہمارے پاس سب کچھ تھا، جتنے مجھے پیسے چاہئے تھے، سب تھے۔ میں آزاد پاکستان میں پیدا ہوا۔


      اس سے قبل عمران خان نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا، آج میں آپ سے ملک کی مستقبل کے لئے اہم بات کروں گا۔ ہمارے سامنے دو راستہ ہے۔ ہمیں کونسا راستہ لینا ہے۔ اس سے پہلے میں آپ سے دل کی باتیں کروں گا‘۔ عمران خان نے کہا، ہمارے پاس سب کچھ تھا، جتنے مجھے پیسے چاہئے تھے، سب تھے۔ میں آزاد پاکستان میں پیدا ہوا۔ میرے ماں باپ مجھے سے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ تم خوش نصیب ہو کہ تم آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو۔ جو لوگ خود دار تھے، انہیں انگریزی حکومت بہت برا لگتا تھا۔ جب میں اس لئے سیاست میں آیا کیونکہ مجھے لگا کہ جس پاکستان کے لئے محمد علی جناح نے لڑائی لڑی، وہ پاکستان تو ہے ہی نہیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔ 

      عمران خان حکومت گئی تو پاکستان میں آگے کیا ہوگا؟ اپوزیشن کے پاس بھی نہیں ہے ’مستقبل پلان‘

      وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تین اسٹوجز کے ان سے رابطے ہیں۔ وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے ہمارے قانونی نظام میں طاقتوروں کو کٹھہرے میں لانے کی سکت نہیں ہے، بیرون ملک ان کی کرپشن کے خلاف خبریں چھپی ہوئی ہیں، اپنے ملک کے لیے اُن کا اخلاقی معیار یہ ہے کہ چھوٹی سی چیز پر کسی بھی عہدیدار کو نکال دیتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انٹلی جنس ایجنسیوں کو سب کے بیک گراؤنڈ کا پتہ ہوتا ہے، ان لیڈروں کے بارے میں انہیں سب پتہ ہے کہ ان کی جائیدادیں کہاں ہیں، یہ تین لوگ انہیں پسند آگئے ہیں، دو پارٹیوں کے دور حکومت میں 10 سال کے دوران 400 ڈرون حملے ہوئے انہوں نے کبھی مذمت تک نہیں کی، اس لیے یہ انہیں پسند ہیں، وکی لیکس میں مولانا فضل الرحمان کے بارے میں انکشاف ہوا کہ پاکستان میں امریکی سفیر کو مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے اقتدار دیں میں بھی وہی کروں گا، جو دیگر کرتے ہیں، نواز شریف مودی سے چھپ چھپ کر ملتے تھے، شادیوں پر دعوتیں دیتے تھے، آصف زرداری نے کہا کہ فکر نہ کریں ڈرون حملے میں بے قصور لوگ مارے جاتے ہیں۔ شہباز شریف کے مطابق عمران خان نے آیبسلوٹلی ناٹ کہہ کر بڑی غلطی کی، ہم امن میں آپ کے ساتھ ہیں جنگ میں نہیں، ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں۔




      عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک کئی پاکستانیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، کسی نے ان پر بات نہیں کی، میری ذمہ داری 22 کروڑ لوگ ہیں، میں نے ان کے لئے خارجہ پالیسی بنانی ہے، دستاویز کے بارے میں کہا گیا کہ یہ غلط ہے، پہلے ہم نے کابینہ میں اسے رکھا، اس کے بعد قومی سلامتی کونسل میں اسے رکھا، پھر پارلیمنٹ کمیٹی اور سینیئر صحافیوں کے سامنے لائے تاکہ بتائیں کہ اس میں کتنی خوفناک باتیں ہیں، یہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے ملک خراب کردیا، مجھے تو ساڑھے تین سال ہوئے ہیں۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: