உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان نے پاکستان میں ’اسلامی نظام‘ کی طرف بڑھایا قدم، رحمت اللعالمینﷺ اتھارٹی کا اعلان

    عمران خان نے پاکستان میں ’اسلامی نظام‘ کی طرف بڑھایا قدم، رحمت اللعالمین اتھارٹی کا اعلان

    عمران خان نے پاکستان میں ’اسلامی نظام‘ کی طرف بڑھایا قدم، رحمت اللعالمین اتھارٹی کا اعلان

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے اب پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے لئے ایک اتھارٹی کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ وہ پاکستان (Pakistan) کو بھی اسلامی ریاست کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کریں گے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) کے اقتدار سے بے حد خوش عمران خان (Imran Khan) نے اب پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے لئے ایک اتھارٹی کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل عمران خان نے اشارہ دیا تھا کہ وہ پاکستان (Pakistan) کو بھی اسلامی ریاست کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ اب انہوں نے اتوار کے روز ’دنیا میں اسلام کی صحیح تصویر‘ پیش کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کی تشکیل کئے جانے کا اعلان کیا۔ اس اتھارٹی کا کام پاکستان کے تعلیمی نظام کو شریعت کے مطابق تبدیل کرنا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ عمران خان نے ایک طرح سے ملک میں ’اسلامی حکومت‘ کی بنیاد رکھ دی ہے۔

      اسلام آباد میں منعقدہ عشرہ رحمت اللعالمینﷺ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اسے ملک کی ترقی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اپنے اخلاقی اقدار کو کم کرکے کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ عمران خان نے کہا، ’کئی دانشور اس (اتھارٹی) کا حصہ ہوں گے۔ اس اتھارٹی کا ایک کام دنیا کو یہ بتانا ہوگا کہ اصل میں اسلام کیا ہے‘۔

       اسلام آباد میں منعقدہ عشرہ رحمت اللعالمینﷺ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اسے ملک کی ترقی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اپنے اخلاقی اقدار کو کم کرکے کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ فائل فوٹو

      اسلام آباد میں منعقدہ عشرہ رحمت اللعالمینﷺ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اسے ملک کی ترقی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اپنے اخلاقی اقدار کو کم کرکے کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ فائل فوٹو


      پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ممتاز علمائے کرام اس اتھارٹی کا حصہ ہوں گے، جو کہ اسکولوں کے نصاب کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمیں بتائیں گے کہ کیا نصاب بدلنے کی ضرورت ہے‘۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ طلبا کو دوسرے مذاہب کی بھی تعلیم دی جائے گی۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی بھی شریعہ قانون کے تحت مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ایک ممتاز عالم میڈیا اور سوشل میڈیا سے متعلق موضوعات کی مانیٹرنگ کرے گا۔

      عمران خان نے کہا کہ رحمت اللعالمین اتھارٹی کو اپنی تہذیب کے مطابق، کارٹون بنانے کا بھی کام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’کارٹون ہمارے بچوں کو غیر ملکی تہذیب دکھا رہے ہیں۔ ہم انہیں روک نہیں سکتے ہیں، لیکن انہیں متبادل دے سکتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اتھارٹی پاکستانی معاشرے پر مغربی تبذہب کے فوائد اور نقصان کا بھی اندازہ کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’جب آپ ملک میں مغربی تہذیب لاتے ہیں، اس کا اندازہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ اس کا ہمیں کیا نقصان ہو رہا ہے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: