உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اپریل میں چھن گئی 3 پاکستانی PM کی کرسی: اسی مہینے عہدے سے ہٹے تھے خواجہ نظام الدین، گیلانی اور شریف، کیا اب عمران کا ہے نمبر؟

    اپریل کے مہینے میں کرسی گنوانے والے عمران خان ہوسکتے ہیں چوتھے وزیراعظم!

    اپریل کے مہینے میں کرسی گنوانے والے عمران خان ہوسکتے ہیں چوتھے وزیراعظم!

    ۔ اگر عمران کی حکومت جاتی ہے تو یہ پاکستان میں چوتھی بار ہو گا کہ اپریل کے مہینے میں وزیر اعظم کو عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ اس سے قبل پاکستان میں خواجہ نظام الدین، میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کو اپریل میں ہی اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان میں عمران خان کی کرسی برقرار رہے گی یا نہیں اس کا فیصلہ اتوار یعنی 3 اپریل کو ممکن ہے۔ اگر عمران کی حکومت جاتی ہے تو یہ پاکستان میں چوتھی بار ہو گا کہ اپریل کے مہینے میں وزیر اعظم کو عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ اس سے قبل پاکستان میں خواجہ نظام الدین، میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کو اپریل میں ہی اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تینوں کی کرسی الگ الگ وجوہات کی بنا پر چلی گئی لیکن وقت کم و بیش ایک ہی تھا یعنی اپریل کا مہینہ۔

      خواجہ نظام الدین
      خواجہ نظام الدین پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے لیاقت علی خان کے قتل کے بعد اقتدار سنبھالا، لیکن ڈیڑھ سال کے اندر انہیں برطرف کر دیا گیا۔ 17 اپریل 1953 کو اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے نظام الدین کی حکومت کو برطرف کر کے سفارت کار محمد علی بوگرا کو وزیر اعظم بنا دیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan Political Crisis:کیاپاکستان کےوزیراعظم عمران خان کوقتل کرنےکی رچی جارہی ہےسازش ؟

      نواز شریف
      پاکستان میں 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انتخابات ہوئے۔ اس الیکشن میں نواز شریف کی پارٹی اتحاد کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ شریف وزیر اعظم بنے لیکن 3 سال کے اندر ہی شریف کا اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سے جھگڑا ہوا جس کے بعد شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ شریف نے 18 اپریل 1993 کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistanمیں عمران خان کے اقتدارسےمحروم ہونے پر ، ہند۔پاک تعلقات پر کیسے پڑے گا اثر ؟

      یوسف رضا گیلانی
      25 مارچ 2008 کو پاکستان کے 24ویں وزیر اعظم بننے والے یوسف رضا گیلانی کی بھی اپریل میں کرسی چلی گئی تھی۔ گیلانی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت کے ایک مقدمے میں نااہل قرار دے دیا تھا، جس کے بعد انہیں 25 اپریل 2012 کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونا پڑا تھا۔

      اب عمران خان کا نمبر؟
      اپوزیشن جماعتوں کے محاذ کھولنے کے بعد عمران خان 3 اپریل کو قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کریں گے۔ اس درمیان، دو جماعتوں نے عمران خان کی مخلوط حکومت سے حمایت واپس لے لی ہے جس کے باعث ان کی علیحدگی طے سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم پارلیمنٹ میں اکثریت کھونے والے عمران خان اب بھی حکومت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خان نے کہا کہ میں ایک کھلاڑی رہا ہوں اور آخری گیند تک ہار نہیں مانوں گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: